چین کی چِپ صنعت میں غیر معمولی پیش رفت، امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی مقابلے میں تیزی
چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جسے عالمی چِپ مارکیٹ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے،مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال، امریکی برآمدی پابندیوں اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی چینی کوششوں نے مقامی چِپ ساز کمپنیوں کو تیزی سے آگے بڑھنے پر مجبور کیا ہے
اس تبدیلی کی نمایاں مثال چانگ شِن میموری ٹیکنالوجیز، سی ایکس ایم ٹی ہے، جو چین کی سب سے بڑی میموری چِپ ساز کمپنی بن چکی ہے،جولائی میں شنگھائی اسٹاک ایکسچینج میں اس کے حصص کی فہرست سازی کے پہلے ہی دن قیمت میں تقریباً 466 فیصد اضافہ ہوا اور کمپنی کی مالیت تقریباً 488 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے بعد وہ چین کی سب سے زیادہ مالیت رکھنے والی فہرست شدہ کمپنی بن گئی
سی ایکس ایم ٹی کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ وہ ڈی آر اے ایم میموری چِپس کی بڑے پیمانے پر پیداوار کر رہی ہے، ایک ایسا شعبہ جس پر طویل عرصے سے جنوبی کوریا اور امریکہ کی بڑی کمپنیاں حاوی رہی ہیں،کمپنی اب دنیا کی چوتھی بڑی ڈی آر اے ایم ساز کمپنی بن چکی ہے اور تقریباً 8 فیصد عالمی مارکیٹ رکھتی ہے، جبکہ سام سنگ، ایس کے ہائنکس اور مائکرون اب بھی مجموعی طور پر غالب ہیں
مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ نے میموری چِپس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے،بڑے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی نظاموں کے لیے درکار چِپس کی بڑھتی ہوئی طلب نے عالمی سطح پر میموری کی قلت پیدا کر دی ہے،اسی صورتحال نے سی ایکس ایم ٹی کے لیے عالمی مارکیٹ میں جگہ بنانے کا موقع پیدا کیا ہے، جبکہ ایپل سمیت بعض بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس کے چِپس کو جانچ رہی ہیں
چین کی پیش رفت صرف میموری چِپس تک محدود نہیں،ملک اپنی چِپ سازی کے لیے درکار مشینری اور دیگر بنیادی ٹیکنالوجی بھی مقامی طور پر تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے،حالیہ رپورٹس کے مطابق چین نے اپنی ڈی یو وی لیتھوگرافی مشینوں کی پیداوار شروع کرنے کی سمت اہم پیش رفت کی ہے، جو چِپ بنانے کے عمل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں
یہ پیش رفت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے چین کو جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی اور آلات تک رسائی محدود کرنے کی پالیسی کے پس منظر میں ہوئی ہے،پابندیوں نے اگرچہ چین کو جدید ترین چِپس کے شعبے میں مشکلات سے دوچار کیا ہے، لیکن دوسری جانب انہی پابندیوں نے بیجنگ کو اپنی مکمل مقامی چِپ سپلائی چین بنانے کی کوشش مزید تیز کرنے پر مجبور کیا ہے
تاہم چین ابھی جدید ترین سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں امریکہ، جنوبی کوریا، تائیوان اور نیدرلینڈز کی صفِ اول کی کمپنیوں سے پیچھے ہے،خصوصاً اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی جدید ہائی بینڈوڈتھ میموری یعنی ایچ بی ایم کے شعبے میں سی ایکس ایم ٹی کو ابھی نمایاں فاصلہ طے کرنا ہے،کمپنی کی حکمت عملی اب اس خلا کو کم کرنے اور آنے والے برسوں میں چین کے اندر ایچ بی ایم کی فراہمی شروع کرنے پر مرکوز ہے
چین کی چِپ صنعت کے لیے اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ موجودہ تیزی کو مستقل تکنیکی برتری میں تبدیل کیا جا سکے،سرمایہ کاری، حکومتی معاونت اور اے آئی کی بڑھتی طلب نے چینی کمپنیوں کو غیر معمولی رفتار دی ہے، لیکن جدید ترین آلات تک محدود رسائی اور عالمی حریفوں کی تکنیکی برتری اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں
اس کے باوجود سی ایکس ایم ٹی کی کامیابی ایک واضح پیغام دے رہی ہے،امریکی پابندیوں نے چین کی چِپ صنعت کو روکنے کے بجائے اسے زیادہ تیزی سے خود انحصاری کی طرف دھکیل دیا ہے، اور اب چین عالمی سیمی کنڈکٹر مقابلے میں محض ایک خریدار نہیں بلکہ تیزی سے ایک اہم حریف بنتا جا رہا ہے۔





