ٹرمپ کی جمالیاتی پسند کے مطابق نئے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے ڈیزائن میں بڑی تبدیلی پر غور
امریکی بحریہ نئے طیارہ بردار بحری جہازوں کے ڈیزائن میں بڑی تبدیلی پر غور کر رہی ہے، جس کی ایک اہم وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ فورڈ کلاس طیارہ بردار جہازوں کے ظاہری ڈیزائن سے متعلق تحفظات بتائے جا رہے ہیں
دی ہل کے مطابق امریکی بحریہ نے اس معاملے پر داخلی جائزہ شروع کیا ہے جس میں نئے طیارہ بردار جہاز کے اوپری حصے میں موجود کمانڈ ٹاور، جسے بحری اصطلاح میں “آئی لینڈ” کہا جاتا ہے، کی جگہ تبدیل کرنے کا امکان زیر غور ہے،ایک سابق اعلیٰ امریکی عہدیدار نے، جو معاملے کی اندرونی نوعیت کے باعث نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، بتایا کہ بحریہ اس ٹاور کو جہاز کے موجودہ ڈیزائن کے مقابلے میں زیادہ درمیان کی جانب منتقل کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے
طیارہ بردار جہاز کا یہ کمانڈ ٹاور محض ظاہری ساخت کا حصہ نہیں بلکہ جہاز کا اہم عملی مرکز ہوتا ہے،اسی مقام سے پروازوں سے متعلق کارروائیوں، بحری جہاز کی سمت اور نقل و حرکت سمیت اہم آپریشنل اور جنگی سرگرمیوں کی نگرانی کی جاتی ہے،عموماً یہ ٹاور جہاز کے دائیں جانب واقع ہوتا ہے
رپورٹ کے مطابق یہ جائزہ جزوی طور پر صدر ٹرمپ کے فورڈ کلاس طیارہ بردار جہازوں کے ظاہری ڈیزائن سے متعلق تحفظات کے بعد شروع ہوا،ٹرمپ اس سے قبل بھی امریکی بحری جہازوں کے ڈیزائن اور ان کی ظاہری شکل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں
حکام کے مطابق بحریہ کی داخلی جائزہ رپورٹ آئندہ کئی ہفتوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے،تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ جائزے کے نتیجے میں واقعی ڈیزائن تبدیل کیا جائے گا یا موجودہ ڈیزائن برقرار رکھا جائے گا
اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ امریکی بحریہ کے جدید طیارہ بردار جہاز انتہائی پیچیدہ جنگی نظام، جدید ایوی ایشن سہولتوں اور اربوں ڈالر کی لاگت پر مشتمل ہوتے ہیں،ان کے ڈیزائن میں بنیادی تبدیلی صرف ظاہری شکل کا معاملہ نہیں بلکہ جہاز کی آپریشنل کارکردگی، تعمیراتی لاگت اور مستقبل کے بحری بیڑے کی منصوبہ بندی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے
پینٹاگون اور امریکی بحریہ سے اس داخلی جائزے کے بارے میں تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک ان کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا تھا





