البرٹا کی وزیرِاعلیٰ کی بین الاقوامی طلبہ کو واضح ہدایت، مستقل رہائش نہ ملے تو ویزا ختم ہونے پر واپس جانا ہوگا

البرٹا کی وزیرِاعلیٰ کی بین الاقوامی طلبہ کو واضح ہدایت، مستقل رہائش نہ ملے تو ویزا ختم ہونے پر واپس جانا ہوگا

البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنے والے بین الاقوامی طلبہ کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ویزا عارضی ہوتا ہے اور جن طلبہ کو اپنی قانونی مدت ختم ہونے تک مستقل رہائش نہیں ملتی، انہیں کینیڈا چھوڑ کر اپنے وطن واپس جانا ہوگا
ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ طلبہ کا تعلیمی ویزا بنیادی طور پر تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے اور اسے مستقل طور پر کینیڈا میں رہنے کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق جو طالب علم تعلیم مکمل کرنے کے بعد قانونی طور پر قیام بڑھانے یا مستقل رہائش حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے، انہیں اپنی اجازت کی مدت ختم ہونے پر واپس جانا چاہیے
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب البرٹا میں بعض بین الاقوامی طلبہ پوسٹ گریجویشن ورک پرمٹ کے مسائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ خاص طور پر پورٹیج کالج سے فارغ التحصیل طلبہ نے شکایت کی ہے کہ انہیں تعلیم کے دوران ایسے پروگراموں کے بارے میں بتایا گیا تھا جن سے انہیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام کرنے کا اجازت نامہ مل سکتا ہے، لیکن بعد میں ان کی درخواستوں میں مشکلات پیدا ہوگئیں
ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ بعض ایسے ادارے اور پروگرام بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی طلبہ کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے امکانات کے بارے میں ضرورت سے زیادہ امیدیں دلائیں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات میں طلبہ کا فائدہ اٹھایا گیا اور انہیں ایسے راستے کی توقع دلائی گئی جو حقیقت میں یقینی نہیں تھا
وزیرِاعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ البرٹا کی جامعات اور کالج بنیادی طور پر صوبے کے طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عوامی وسائل سے قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں بین الاقوامی طلبہ کے لیے جگہ موجود ہو، وہاں ان کے لیے بنیادی اصول واضح ہونے چاہئیں کہ وہ تعلیم حاصل کریں اور اگر انہیں مستقل رہائش کا قانونی راستہ نہ ملے تو اپنی تعلیم سے حاصل کیے گئے علم کو اپنے وطن میں استعمال کریں
یہ معاملہ کینیڈا میں بین الاقوامی طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے جاری وسیع بحث کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں طلبہ کی تعداد، تعلیمی اداروں کی گنجائش، رہائش، روزگار اور مستقل رہائش کے پروگراموں پر دباؤ کم کرنے کے لیے امیگریشن پالیسیوں میں سختیاں کی گئی ہیں
تاہم مستقل رہائش کے لیے درخواست دینا یا کسی پروگرام کے لیے اہل ہونا الگ معاملہ ہے۔ محض کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنے سے کسی شخص کو مستقل رہائش کا خودکار حق حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام کرنے کا اجازت نامہ بھی ہر پروگرام اور طالب علم کے لیے خودکار طور پر دستیاب نہیں ہوتا
پورٹیج کالج سے متعلق معاملے نے اس بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ کو داخلہ دیتے وقت انہیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام اور مستقل رہائش کے حقیقی امکانات کے بارے میں کتنی واضح معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ متعدد طلبہ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے بھاری فیسیں ادا کرکے تعلیم حاصل کی اور بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ان کے لیے متوقع کام کا اجازت نامہ حاصل کرنا آسان نہیں تھا
البرٹا حکومت کا مؤقف ہے کہ امیگریشن کا نظام واضح اصولوں کے تحت چلنا چاہیے اور مستقل رہائش ان افراد کو دی جانی چاہیے جن کی مہارتیں اور تجربہ صوبے اور ملکی معیشت کی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں
ڈینیئل اسمتھ کے بیان نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ایک واضح حقیقت دوبارہ سامنے رکھ دی ہے کہ کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنا مستقل طور پر قیام کی ضمانت نہیں ہے۔ جن افراد کے پاس اپنی قانونی مدت ختم ہونے کے بعد کینیڈا میں رہنے کے لیے کوئی منظور شدہ اجازت یا قانونی حیثیت موجود نہیں ہوگی، انہیں ملک چھوڑنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید