پنجاب کے کسانوں کا بڑھتا غصہ صرف گندم کی قیمت کا مسئلہ نہیں، زرعی بحران سنگین ہوگیا

پنجاب کے کسانوں کا بڑھتا غصہ صرف گندم کی قیمت کا مسئلہ نہیں، زرعی بحران سنگین ہوگیا

پنجاب سمیت پاکستان بھر میں کسان تنظیموں کی بڑھتی ہوئی بے چینی محض گندم کی قیمت کے معاملے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کو درپیش ایک گہرے زرعی بحران کی تازہ علامت ہے۔ کسانوں کو پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملنے کے ساتھ ساتھ کھاد، بجلی، ڈیزل، زرعی مشینری اور مزدوری کے اخراجات میں مسلسل اضافے کا سامنا ہے، جس نے کاشت کاری کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل بنا دیا ہے
کسانوں کے غصے کا بنیادی مرکز گندم کی منڈی ہے۔ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر گندم خریدنے کے عمل سے پیچھے ہٹنے کے بعد کاشت کار زیادہ تر نجی خریداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف پیداوار کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، لیکن کسانوں کو اپنی فصل کی جو قیمت ملتی ہے وہ کئی مواقع پر مجموعی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتی
کسانوں کا کہنا ہے کہ کھاد کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، بجلی اور ڈیزل مہنگا ہو چکا ہے، زرعی مشینری کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور مزدوری بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگی پڑ رہی ہے۔ ایسے حالات میں اگر فصل مناسب قیمت پر فروخت نہ ہو تو کسان کے لیے اپنی زمین پر اگلی فصل کی تیاری کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے
مسئلہ صرف گندم تک محدود نہیں۔ کپاس، گنے، آلو اور دیگر اہم فصلیں بھی گزشتہ عرصے کے دوران مختلف مشکلات کا شکار رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں پیداوار کم ہوئی، کہیں موسمی حالات نے فصلوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ کیڑوں کے حملوں نے بھی پیداوار کو متاثر کیا
کئی مواقع پر مارکیٹ میں فصل کی بہتات کے باعث قیمتیں اچانک نیچے آ گئیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کو اپنی پیداوار کی رقم کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی شکایات بھی رہی ہیں۔ حکومتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال نے بھی کاشت کاروں کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی مشکل بنا دی ہے
آبپاشی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی کسانوں پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔ پانی، بجلی اور زرعی مداخل کی مہنگائی کا اثر خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں پر زیادہ پڑتا ہے، کیونکہ ان کے پاس بڑے کاشت کاروں کی طرح مالی وسائل یا نقصان برداشت کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی
زرعی بحران کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کسان کی آمدنی اور پیداوار کے اخراجات کے درمیان فرق مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر ایک طرف بیج، کھاد، پانی، بجلی اور ایندھن مہنگے ہوں اور دوسری طرف فصل فروخت کرتے وقت مناسب قیمت نہ ملے تو کسان کے لیے منافع کمانا تو دور کی بات، اپنی اصل سرمایہ کاری واپس حاصل کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے
یہ صورتحال طویل مدت میں صرف کسانوں کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے پاکستان کی بڑی آبادی کا روزگار براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ خوراک کی ضروریات پوری کرنے اور اہم زرعی اجناس کی دستیابی میں بھی کسان بنیادی کردار ادا کرتے ہیں
اگر کسان مسلسل نقصان کا شکار رہے تو وہ اگلے موسم میں فصل کا رقبہ کم کرنے، کم سرمایہ لگانے یا بعض فصلوں کی کاشت ترک کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مستقبل میں پیداوار، خوراک کی قیمتوں اور زرعی درآمدات پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے
کسان تنظیموں کی بڑھتی ہوئی تشویش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلے کا حل صرف گندم کی ایک قیمت مقرر کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ زرعی مداخل کی قیمت، بجلی اور آبپاشی کے اخراجات، فصلوں کی منڈی، بروقت ادائیگی، موسمی خطرات اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل جیسے بنیادی مسائل کو بھی ایک جامع حکمت عملی کے تحت حل کرنا ہوگا
پاکستان کے زرعی شعبے کو اس وقت ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جو کسان کو صرف فصل اگانے کے لیے نہیں بلکہ مناسب آمدنی حاصل کرنے کے قابل بھی بنائے۔ اگر پیداوار کی لاگت اور کسان کی آمدنی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ختم نہ کیا گیا تو گندم کا موجودہ تنازع ایک بڑے اور طویل مدتی زرعی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید