اٹلی کے عجائب گھر سے قدیم دور کی چار قیمتی پینٹنگز چوری، کروڑوں یورو کا نقصان
اٹلی کے جزیرے سسلی کے شہر میسینا میں واقع علاقائی عجائب گھر سے نشاۃ ثانیہ کے معروف مصور انتونیلو دا میسینا کے چار انتہائی قیمتی فن پارے چوری کر لیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق چوری ہونے والے فن پاروں کی مجموعی مالیت تقریباً 7 کروڑ سے 8 کروڑ یورو تک لگائی جا رہی ہے
یہ واردات ہفتے کی رات اس وقت ہوئی جب میسینا میں مذہبی تہوار کی تقریبات جاری تھیں اور بڑی تعداد میں لوگ شہر کی سڑکوں پر موجود تھے چوروں نے عجائب گھر کے حفاظتی نظام اور نگرانی کو عبور کرتے ہوئے انتونیلو دا میسینا کے مشہور ’’سان گریگوریو‘‘ تصویری مجموعے کے پانچ لکڑی کے پینل نکال لیے، تاہم فرار کے دوران ان میں سے دو پینل باہر چھوڑ گئے۔ یوں تین پینل چوری ہو گئے
چور ایک اور دو رخی فن پارہ بھی اپنے ساتھ لے گئے جس میں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ فن پارہ ایک محفوظ شیشے کے حصار سے نکالا گیا۔ چوری کیے گئے فن پارے تقریباً پندرھویں صدی کے معروف مصور انتونیلو دا میسینا کے کام کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں
حکام کے مطابق چوری ہونے والے فن پاروں میں شامل ’’سان گریگوریو‘‘ مجموعہ خاص تاریخی اہمیت رکھتا ہے یہ فن پارے 1473 کے قریب تیار کیے گئے تھے اور ان کا تعلق میسینا کے ایک قدیم مذہبی مرکز سے تھا جو 1908 کے تباہ کن زلزلے میں تباہ ہو گیا تھا
اس مجموعے کی ایک اور غیر معمولی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انتونیلو دا میسینا کے ان فن پاروں میں شامل تھے جو کبھی میسینا سے باہر نہیں گئے۔ شہر کے لیے ان کی اہمیت صرف فنی نہیں بلکہ تاریخی اور ثقافتی شناخت سے بھی جڑی ہوئی تھی
عجائب گھر کی انتظامیہ کے مطابق واردات کے وقت حفاظتی نظام فعال تھا اور محافظ بھی موجود تھے، تاہم چور اس کے باوجود فن پارے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ واردات کے بعد عجائب گھر کو بند کر دیا گیا اور تفتیشی اداروں نے شواہد جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے
ثقافتی حکام نے چوری کو انتہائی سنگین نقصان قرار دیا ہے میسینا کے حکام کا کہنا ہے کہ انتونیلو دا میسینا شہر کی ثقافتی شناخت کا بنیادی حصہ ہیں اور ان کے فن پاروں کا چوری ہونا صرف ایک عجائب گھر کا نقصان نہیں بلکہ پورے سسلی کے ثقافتی ورثے کے لیے بڑا دھچکا ہے
ماہرین کے مطابق اتنے معروف فن پاروں کو عام ذرائع سے فروخت کرنا انتہائی مشکل ہوگا کیونکہ دنیا بھر کے عجائب گھر اور فن کے ماہرین انہیں باآسانی شناخت کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے تفتیش کار اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ چوری کسی مخصوص خریدار کے حکم پر کی گئی ہو
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اٹلی میں تاریخی فن پاروں کی چوری اور ان کی غیر قانونی خرید و فروخت کے خلاف تشویش بڑھ رہی ہے۔ چند روز قبل شمالی اٹلی میں چوری کیے گئے آگست رینوار، پال سیزان اور ہنری ماتیس کے تین فن پارے بھی برآمد کیے گئے تھے
حکام نے انتونیلو دا میسینا کے چوری شدہ شاہکاروں کی فوری بازیابی کے لیے تحقیقات تیز کر دی ہیں اور امید ظاہر کی ہے کہ قیمتی فن پارے جلد برآمد کر لیے جائیں گے





