امریکی آجر ملازمین کو تیزی ڈسپوزبل سمجھنے لگے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
امریکا میں ملازمت کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور ماہرین کے مطابق زیادہ سے زیادہ آجر ایسے کارکنوں پر انحصار کر رہے ہیں جنہیں مستقل افرادی قوت کے بجائے ضرورت کے مطابق رکھا اور فارغ کیا جا سکتا ہے،ماہرینِ محنت اسے ’’ڈسپوزیبل ورکرز‘‘ یعنی ایسے کارکن قرار دے رہے ہیں جن کی جگہ نسبتاً آسانی سے دوسرے افراد لے سکتے ہیں
ماہرِ معاشیات پال اوسٹرمن کے مطابق ایسے کارکنوں کی 3 بڑی اقسام سامنے آ رہی ہیں،معاہدے پر کام کرنے والے افراد، آزاد پیشہ ور اور ایسے مستقل ملازمین جنہیں کمپنی کے اندر ترقی، تربیت اور طویل مدتی ملازمت کے مواقع بہت کم ملتے ہیں
فاسٹ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق اس رجحان کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ کمپنیوں نے اپنی افرادی قوت کو زیادہ ’’لچک دار‘‘ بنانے کی کوشش کی ہے،مستقل ملازمین کے بجائے ٹھیکے، عارضی ملازمتوں اور دوسری غیر مستقل نوعیت کی بھرتیوں کے ذریعے ادارے معاشی حالات بدلنے پر اپنی افرادی قوت کو تیزی سے کم یا زیادہ کر سکتے ہیں
رپورٹ میں ’’مارجنل ورکرز‘‘ کے طور پر بیان کیے گئے کارکن بظاہر عام کمپنی ملازمین ہی ہوتے ہیں، لیکن ان کی ملازمتیں اس انداز میں تشکیل دی جاتی ہیں کہ ان میں ملازمت کا دورانیہ مختصر اور عملے کی تبدیلی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے،اوسٹرمن کے ایک جائزے کے مطابق ان کارکنوں کا حصہ ان کے زیرِ مطالعہ افرادی قوت میں تقریباً 17 فیصد تھا
اس تبدیلی کا اثر صرف ملازمت کے تحفظ تک محدود نہیں،جب کارکنوں کو تربیت، ترقی اور کمپنی کے ساتھ طویل مدتی وابستگی کے مواقع کم ملتے ہیں تو ان کے لیے پیشہ ورانہ ترقی اور بہتر آمدنی کی راہ بھی محدود ہو سکتی ہے
یہ رجحان امریکی روزگار کے مستقبل کے بارے میں ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے،اگر کمپنیوں کے لیے کارکنوں کو مستقل ملازم رکھنے کے بجائے ضرورت کے مطابق تبدیل کرنا زیادہ فائدہ مند ہوتا جا رہا ہے تو کیا روایتی ’’مستقل ملازمت‘‘ امریکی معیشت میں اپنی اہمیت کھوتی جا رہی ہے؟
فاسٹ کمپنی کی رپورٹ اسی تبدیلی کو امریکی روزگار کی دنیا میں بڑھتے ہوئے ’’ڈسپوزیبل ورکر‘‘ ماڈل کے طور پر دیکھتی ہے، جہاں کارکن کمپنی کا طویل مدتی اثاثہ بننے کے بجائے ایک ایسی افرادی ضرورت بن سکتے ہیں جسے کاروباری حالات کے مطابق تیزی سے تبدیل کیا جا سکے۔ 





