بلوچستان کے مسائل طاقت سے نہیں، سیاسی مذاکرات اور اتفاق رائے سے حل ہوں گے، عبدالمالک بلوچ
نیشنل پارٹی کے سربراہ اور بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کے موجودہ سیاسی اور امن و امان کے بحران کا حل طاقت کے بجائے سیاسی طریقے سے نکالنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے دیرینہ مسائل کو مذاکرات، سیاسی مفاہمت اور جمہوری عمل کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کے ہیں اور انہیں محض طاقت کے استعمال سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ریاست اور سیاسی قیادت کو صوبے میں موجود بے چینی، محرومی اور سیاسی فاصلے کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر کردار دیا جانا چاہیے، کیونکہ سیاسی قوتوں کو نظر انداز کرنے سے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک حقیقی سیاسی عمل ہی عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان میں موجودہ امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بدامنی کے باعث عام شہریوں کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیاں اور آمدورفت بھی متاثر ہو رہی ہیں سڑکوں اور شاہراہوں پر عدم تحفظ کے احساس نے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے صرف حفاظتی اقدامات کافی نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور آئینی مسائل کو بھی حل کرنا ہوگا۔ عوام کو ان کے بنیادی حقوق، وسائل میں منصفانہ حصہ اور سیاسی نمائندگی فراہم کرنا ضروری ہے
نیشنل پارٹی کے سربراہ نے اٹھارہویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبائی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے آئینی اور مالی حقوق میں کسی قسم کی کمی یا واپسی کی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی اور سیاسی جماعتیں ان حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ کوشش کرنا ہوگی۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن صوبے کے وسیع تر مفاد میں ایک ایسا متفقہ راستہ اختیار کرنا ضروری ہے جس کے ذریعے عوام کی شکایات سنی جائیں اور انہیں عملی طور پر دور کیا جائے
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے مطابق بلوچستان کے مسئلے کو صرف امن و امان کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم، صحت، وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی اور صوبائی خودمختاری جیسے معاملات بھی موجودہ صورتحال سے گہرا تعلق رکھتے ہیں
انہوں نے سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اور مشترکہ جدوجہد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن، جمہوریت اور سیاسی استحکام کے لیے ایک وسیع سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق طاقت کا استعمال وقتی طور پر حالات کو قابو میں لا سکتا ہے، لیکن دیرپا حل صرف سیاسی مذاکرات اور عوامی اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہوگا
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت بلوچستان کے سیاسی اور آئینی حقوق کے لیے جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور صوبے میں امن کے قیام کے لیے سیاسی حل کی کوششوں کی حمایت کرے گی





