نوجوان نسل کا نیا فیصلہ: جن زی گھر واپس جا رہی ہے، اور اسے یہ ایک سمجھدار قدم لگتا ہے
امریکا میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اب والدین سے الگ رہنے کے بجائے دوبارہ اپنے گھروں کا رخ کر رہی ہے، اور اس نسل کے نزدیک یہ معاشی مجبوری نہیں بلکہ ایک سمجھدار مالی فیصلہ ہے
22 سالہ اریانا ہرنینڈز کی حالیہ سفری فہرست کسی خوشحال ریٹائرڈ امریکی کی تعطیلات سے کم نہیں،وہ آسٹریا، اٹلی، کوسٹا ریکا، گوئٹے مالا، ہوائی اور ورجن آئی لینڈز کا سفر کر چکی ہیں،حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ اور اس کی کئی قریبی سہیلیاں اپنے والدین کے گھروں میں رہتی ہیں
ہرنینڈز کے مطابق والدین کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انہیں کرائے یا گھر کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کرنا پڑتے اور وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ سفر اور دوسری ترجیحات پر خرچ کر سکتی ہیں،اس کا کہنا ہے کہ اس کی کئی قریبی سہیلیاں بھی والدین کے ساتھ رہتی ہیں اور اسی وجہ سے وہ سب مل کر سفر کر پاتی ہیں
امریکا میں جن زی کے نوجوانوں کا والدین کے گھروں میں رہنے کا رجحان بڑھ رہا ہے،اس نسل کے لیے اپنا الگ گھر لینا یا کرائے کا مکان حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا ہو چکا ہے، چنانچہ بہت سے نوجوان مالی آزادی کا مطلب والدین سے الگ رہنا نہیں بلکہ اپنے اخراجات کو سمجھداری سے منظم کرنا سمجھتے ہیں
نوجوانوں کا یہ طرزِ زندگی امریکی معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت بھی بن رہا ہے،ایک طرف رہائش کے اخراجات اور مکان خریدنے کی قیمتیں نوجوانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں، تو دوسری طرف والدین کے ساتھ رہنے سے انہیں رقم بچانے، سفر کرنے، تعلیم مکمل کرنے اور مستقبل کے لیے مالی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع مل رہا ہے
یوں جن زی کے لیے والدین کے گھر واپس جانا محض ’’گھر لوٹنے‘‘ کا فیصلہ نہیں رہا بلکہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے درمیان مالی حکمتِ عملی بن چکا ہے





