Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

دماغ ٹوٹ چکا تھا، مگر سرجری کے بغیر آواز کی لہروں سے اسے ٹھیک کر دیا گیا

دماغ ٹوٹ چکا تھا، مگر سرجری کے بغیر آواز کی لہروں سے اسے ٹھیک کر دیا گیا

ایک خاتون کی میتھ کی لت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ علاج کا آخری راستہ ممکنہ طور پر دماغ کی سرجری رہ گیا تھا، مگر پھر ایک غیر جراحی طریقے نے حیران کن نتائج دکھائے،ڈاکٹروں نے کھوپڑی کھولنے یا دماغ میں کوئی آلہ داخل کرنے کے بجائے مخصوص آواز کی لہروں کے ذریعے دماغ کے اس حصے کو متحرک کیا جو نشے اور طلب کے احساس سے جڑا ہوا ہے
امریکی ریاست ورمونٹ سے تعلق رکھنے والی 45 سالہ ایرن میک نلٹی کئی برس سے منشیات کی لت میں مبتلا تھیں،ان کا نشے کا سفر کم عمری میں شراب اور چرس سے شروع ہوا، بعد میں ہیروئن اور کوکین تک پہنچا اور پھر میتھ ایمفیٹامین نے ان کی زندگی کو اپنی گرفت میں لے لیا،متعدد بار نشہ چھوڑنے کی کوشش، بحالی مراکز میں داخلے اور کئی خطرناک واقعات کے باوجود وہ اس لت سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر سکی تھیں
2024 کے اوائل میں ان کی والدہ لنڈا نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایسا طبی تجربہ دیکھا جس نے انہیں اپنی بیٹی کے لیے نئی امید دی،اس طریقے میں فوکسڈ الٹراساؤنڈ یعنی انتہائی مرکوز آواز کی لہروں کو کھوپڑی کے باہر سے دماغ کے مخصوص حصے تک پہنچایا جاتا ہے،،ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی کے ماہرین اس ٹیکنالوجی کو نشے اور الزائمر سمیت بعض دماغی بیماریوں کے ممکنہ علاج کے طور پر آزما رہے تھے
اس طریقے کی سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اس کے لیے کھوپڑی میں سوراخ کرنے، دماغ میں الیکٹروڈ داخل کرنے یا کسی قسم کی روایتی دماغی سرجری کی ضرورت نہیں تھی،نیورو سرجن علی رضائی اور ان کی ٹیم کے مطابق مخصوص آواز کی لہریں دماغ کے گہرے حصوں تک پہنچ کر وہاں موجود عصبی سرگرمی کو متاثر کر سکتی ہیں،پورا طریقہ تقریباً 20 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے اور مریض اسی روز واپس جا سکتا ہے
ایرن نے علاج کے دوران ہی محسوس کیا کہ منشیات کی طلب اچانک کم ہو رہی ہے،بعد میں جب انہوں نے سڑکوں اور بسوں میں لوگوں کو منشیات استعمال کرتے دیکھا تو بھی ان کے اندر پہلے جیسی کشش پیدا نہیں ہوئی،انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے دماغ کے اندر کوئی سوئچ بند کر دیا گیا ہو
اس تجربے کے بعد ڈاکٹروں نے کئی ماہ تک ان کی نگرانی جاری رکھی،موبائل ایپ کے ذریعے ان کی منشیات کی طلب کا جائزہ لیا گیا اور پیشاب کے نمونوں سے منشیات کے استعمال کی جانچ کی گئی
ماہرین تاہم خبردار کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے،فوکسڈ الٹراساؤنڈ کے ذریعے دماغی سرگرمی کو تبدیل کرنے کے امکانات پر تحقیق تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات اور مختلف مریضوں پر اس کی افادیت کے بارے میں ابھی مزید تحقیق ضروری ہے
یہ پیش رفت اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ ایک ایسا علاج جس کے لیے ماضی میں دماغی سرجری یا کھوپڑی میں مداخلت ضروری سمجھی جاتی تھی، اب مخصوص آواز کی لہروں کے ذریعے بغیر چیر پھاڑ کے آزمایا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید