کینیڈا اور امریکہ میں ٹیرف جنگ کا فیصلہ کن مرحلہ، 19 اگست سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو کینیڈین برآمدات پر 50 فیصد نیا ٹیرف لگنے کا خطرہ

کینیڈا اور امریکہ میں ٹیرف جنگ کا فیصلہ کن مرحلہ، 19 اگست سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو کینیڈین برآمدات پر 50 فیصد نیا ٹیرف لگنے کا خطرہ

اوٹاوا/واشنگٹن — کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ اب ایک انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تیزی سے جاری ہیں، تاہم تازہ صورتحال کے مطابق ابھی تک کسی حتمی تجارتی معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا
کینیڈا کی حکومت کی کوشش ہے کہ امریکہ اسٹیل، ایلومینیم، آٹو سیکٹر اور دیگر اہم کینیڈین برآمدات پر عائد تجارتی پابندیوں میں نمایاں کمی کرے دوسری جانب امریکہ کینیڈا سے اپنی مصنوعات کے لیے زیادہ مارکیٹ رسائی، خصوصاً گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور دیگر شعبوں میں رعایتیں چاہتا ہے
معاملہ اس لیے بھی انتہائی حساس ہے کیونکہ 19 اگست کو نئے امریکی ٹیرف کی اہم ڈیڈ لائن سامنے آ رہی ہے اگر اس سے پہلے دونوں ملک کسی سمجھوتے تک نہ پہنچ سکے تو کینیڈین کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات فروخت کرنا مزید مہنگا ہو سکتا ہے، جس سے کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے
کینیڈین حکام کے مطابق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔ کینیڈا خاص طور پر اس بات پر زور دے رہا ہے کہ امریکہ ایسے شعبوں میں ریلیف دے جہاں دونوں ملکوں کی سپلائی چین ایک دوسرے سے گہری جڑی ہوئی ہے
کینیڈا اور امریکہ کی معیشتیں ایک دوسرے پر انتہائی زیادہ انحصار کرتی ہیں، اس لیے یہ تنازع صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہے گا؛ اس کا اثر صنعتوں، کارکنوں، کاروباروں اور بالآخر صارفین تک پہنچ سکتا ہے اب سب کی نظریں 19 اگست سے پہلے ہونے والے مذاکرات پر ہیں کہ آیا اوٹاوا اور واشنگٹن کسی بڑے تجارتی تصادم سے بچنے کے لیے ڈیل کر پاتے ہیں یا نہیں

قومی خبریں سے مزید