بھارت میں نوجوان خواتین احتجاج میں شامل ہوئیں، پھر نفرت اور آن لائن حملوں کا سامنا کرنا پڑا

بھارت میں نوجوان خواتین احتجاج میں شامل ہوئیں، پھر نفرت اور آن لائن حملوں کا سامنا کرنا پڑا

بھارت میں مختلف سیاسی اور سماجی احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے والی نوجوان خواتین کو احتجاج کے بعد سوشل میڈیا پر شدید نفرت، ہراسانی اور ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑا
خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی اور سماجی مؤقف کے اظہار کے لیے احتجاج میں شرکت کی تھی، لیکن مظاہروں کے بعد ان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں اور انہیں تنقید، تضحیک اور بعض صورتوں میں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا
ان واقعات نے بھارت میں خواتین کے سیاسی اظہار اور احتجاج میں شرکت کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ خواتین کے احتجاج میں شامل ہونے کے بعد انہیں اکثر ان کے سیاسی مؤقف کے بجائے ان کی ذاتی زندگی، لباس اور کردار کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے
سوشل میڈیا نے اس صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ احتجاج کے دوران بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز چند گھنٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہیں اور ان کے ساتھ توہین آمیز تبصرے، غلط معلومات اور ذاتی نوعیت کے الزامات بھی شامل ہو سکتے ہیں
نوجوان خواتین کے لیے یہ صورتحال اس سوال کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ جمہوری معاشرے میں سیاسی احتجاج میں شرکت کی آزادی کے ساتھ ساتھ خواتین کو آن لائن نفرت، ہراسانی اور دھمکیوں سے تحفظ کیسے فراہم کیا جائے

قومی خبریں سے مزید