4 بار عالمی چیمپئن پاکستان ہاکی زوال کا شکار کیسے ہوئی، عالمی معیار سے آج کی مشکلات تک

4 بار عالمی چیمپئن پاکستان ہاکی زوال کا شکار کیسے ہوئی، عالمی معیار سے آج کی مشکلات تک

بھارتی میڈیا نے پاکستان ہاکی کی تباہی پر ایک تحقیقاتی مضمون میں کہا ہے ، پاکستان کبھی عالمی ہاکی کی سب سے طاقتور ٹیموں میں شمار ہوتا تھا،ایک وقت تھا جب پاکستانی ہاکی دنیا کے لیے معیار کی حیثیت رکھتی تھی اور بھارت کے ساتھ اس کی تاریخی مسابقت نے برصغیر سمیت عالمی ہاکی کو ایک نئی بلندی دی
پاکستان نے 4 مرتبہ ہاکی کا عالمی کپ جیتا اور کئی دہائیوں تک دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل رہا،پاکستانی کھلاڑی اپنی رفتار، مہارت، گیند پر کنٹرول اور جارحانہ کھیل کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتے تھے
لیکن وقت کے ساتھ پاکستان ہاکی کی وہ شان برقرار نہ رہ سکی،کھیل کے جدید تقاضے بدلتے گئے، دوسرے ممالک نے اپنی ہاکی کے نظام کو بہتر بنایا، نئے تربیتی طریقے اختیار کیے اور نوجوان کھلاڑیوں کی تیاری پر سرمایہ کاری کی، جبکہ پاکستان اس دوڑ میں مسلسل پیچھے ہوتا گیا
ایک زمانے میں جس ٹیم کے خلاف کھیلنا دنیا کی بڑی ٹیموں کے لیے اعزاز سمجھا جاتا تھا، وہ خود عالمی سطح پر اپنی جگہ واپس حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے لگی
پاکستان اور بھارت کی ہاکی رقابت بھی اس کھیل کی تاریخ کا ایک اہم باب رہی ہے،دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلوں نے نہ صرف دونوں ملکوں میں ہاکی کو بے پناہ مقبولیت دی بلکہ کئی دہائیوں تک عالمی ہاکی میں ان دونوں کا اثر نمایاں رہا،پاکستان کے زوال کے ساتھ یہ تاریخی مقابلہ بھی اپنی پرانی شدت اور عالمی اہمیت کھوتا گیا
پاکستان ہاکی کے زوال کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں بلکہ کئی مسائل ہیں،انتظامی کمزوریاں، مستقل پالیسی کا فقدان، مالی مشکلات، کھلاڑیوں کے لیے محدود مواقع، جدید تربیتی نظام سے دوری اور نچلی سطح پر ہاکی کے ڈھانچے کی کمزوری نے اس کھیل کو شدید متاثر کیا
اس کے باوجود پاکستان میں ہاکی کا ٹیلنٹ ختم نہیں ہوا،اصل چیلنج یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو مناسب تربیت، مسلسل مقابلے، جدید سہولتیں اور ایک مستحکم نظام فراہم کیا جائے
جس ملک نے کبھی عالمی ہاکی کو اپنے کھیل سے متاثر کیا تھا، آج وہ اسی ماضی کی عظمت واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے،سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی ہاکی کی گرتی ہوئی روایت کو صرف یادوں سے نکال کر دوبارہ عالمی میدان میں کامیابی کی حقیقت میں کب تبدیل کر سکے گا

قومی خبریں سے مزید