مہوا موئترا کی حمایت میں ششی تھرور سامنے آگئے، سرکٹ ہاؤس سے رات گئے بے دخلی کی کوشش پر احتجاج

مہوا موئترا کی حمایت میں ششی تھرور سامنے آگئے، سرکٹ ہاؤس سے رات گئے بے دخلی کی کوشش پر احتجاج

بھارتی کانگریس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو انہیں سرکٹ ہاؤس سے نکالنے کے بجائے ان کی سکیورٹی یقینی بنانی چاہیے
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کرشن نگر سے رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے الزام عائد کیا کہ نادیہ ضلعی انتظامیہ نے جمعے کی رات انہیں کرشن نگر کے سرکٹ ہاؤس میں الاٹ کیے گئے کمرے سے نکلنے کے لیے کہا،موئترا کے مطابق انہیں رات 9 بج کر 47 منٹ اور پھر 10 بج کر 52 منٹ پر کمرہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا، جبکہ سرکٹ ہاؤس کے باہر ایک بڑی بھیڑ جمع تھی
موئترا نے سوشل میڈیا پر انٹر پارلیمانی یونین سے بھی رابطہ کیا اور کہا کہ ایک خاتون رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے انہیں مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا،ان کے مطابق باہر موجود ہجوم ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگا رہا تھا،انہوں نے اس معاملے میں لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے مداخلت کی درخواست بھی کی ہے اور قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے
ششی تھرور نے مہوا موئترا کی ایکس پر کی گئی پوسٹ کے جواب میں کہا کہ اگر کوئی ہجوم ان کے خلاف جمع ہو تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں سکیورٹی فراہم کرے، نہ کہ سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے لیے کہے
تھرور نے تمام جمہوریت پسندوں سے بھی مہوا موئترا کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اپیل کی اور اپنی پوسٹ کے آخر میں ’’اسٹینڈ ود مہوا‘‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کیا
یہ واقعہ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر سامنے آیا، جس پر مہوا موئترا نے سوال اٹھایا کہ یہ بھارت میں جمہوریت کی موجودہ صورت حال کی عکاسی کرتا ہے،دوسری جانب، اس معاملے میں انتظامیہ کی جانب سے موئترا کے الزامات پر مکمل تفصیلی مؤقف ابھی سامنے نہیں آیا ہے
واقعے نے حکومتی سہولتوں کے استعمال، منتخب ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ انتظامی رویے اور سیاسی مخالفین کے تحفظ کے حوالے سے ایک نیا سیاسی تنازع پیدا کر دیا ہے

قومی خبریں سے مزید