وائٹ ہاؤس کا چین پر اربوں ڈالر کے ٹیرف سے بچنے کا الزام، 40 سے زائد ممالک کے ذریعے چینی مال امریکا پہنچانے کا دعویٰ
امریکی وائٹ ہاؤس نے چین پر امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے ایک بڑے عالمی تجارتی نیٹ ورک کو استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ چینی مصنوعات کو 40 سے زائد ممالک کے راستے امریکا پہنچایا جا رہا ہے، جہاں معمولی تبدیلی، دوبارہ پیکنگ یا جعلی دستاویزات کے ذریعے ان کا اصل چینی ماخذ چھپا دیا جاتا ہے
وائٹ ہاؤس نے اس عمل کو ’’گریٹ ٹرانس شپمنٹ اسکیم‘‘ قرار دیا ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس رپورٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے،رپورٹ کی تیاری میں وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو کا اہم کردار ہے
اس طریقۂ کار کو تجارتی اصطلاح میں ’’ٹرانس شپمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں چینی مصنوعات کو براہ راست چین سے امریکا بھیجنے کے بجائے پہلے کسی تیسرے ملک منتقل کیا جاتا ہے،وہاں بعض اوقات صرف معمولی نوعیت کی پراسیسنگ، اسمبلی، پیکنگ یا لیبل کی تبدیلی کی جاتی ہے اور پھر مصنوعات کو اس ملک کی پیداوار ظاہر کرتے ہوئے امریکا بھیج دیا جاتا ہے
مثلاً تقریباً تیار شدہ کوئی لباس چین سے کمبوڈیا بھیجا جائے، وہاں اس میں چند معمولی سلائیاں لگائی جائیں اور پھر اسے کمبوڈیا کی تیار کردہ مصنوعات ظاہر کر کے امریکا بھیج دیا جائے،اس طرح چینی مصنوعات پر عائد زیادہ امریکی ٹیرف سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ طریقہ 2018 میں چین پر امریکی ٹیرف عائد ہونے کے بعد نمایاں طور پر بڑھا،اسی عرصے میں چین سے امریکا براہ راست درآمدات میں کمی آئی، جبکہ بعض دوسرے ممالک سے امریکی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا،امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس تبدیلی کا ایک حصہ چینی مصنوعات کی بالواسطہ ترسیل سے منسلک ہے،2025 میں چین سے امریکی درآمدات 308.7 ارب ڈالر رہیں، جو 16 سال کی کم ترین سطح تھی، جبکہ میکسیکو اور ویتنام سمیت بعض دوسرے ممالک سے درآمدات میں اضافہ ہوا،
رپورٹ میں ایسے 40 سے زائد ممالک اور تجارتی خطوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں چینی مصنوعات کی غیر قانونی یا مشتبہ بالواسطہ ترسیل کے لیے استعمال کیے جانے کا خطرہ قرار دیا گیا ہے،ان میں کینیڈا، میکسیکو، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، اسرائیل، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ترکیہ اور یورپی یونین سمیت متعدد اہم تجارتی شراکت دار شامل ہیں،تاہم اس فہرست میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ ان تمام ممالک کی حکومتیں اس سرگرمی میں ملوث ہیں،امریکی رپورٹ بنیادی طور پر ان ممالک کو ایسے راستوں یا مراکز کے طور پر دیکھتی ہے جنہیں چینی مصنوعات کے ماخذ کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
پاکستان اس رپورٹ میں ان نمایاں ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے جنہیں وائٹ ہاؤس نے ٹرانس شپمنٹ کے خطرے کے حوالے سے نامزد کیا ہے
وائٹ ہاؤس نے غیر قانونی طور پر منتقل ہونے والی چینی مصنوعات کی ممکنہ مالیت 40 ارب سے 303 ارب ڈالر سالانہ تک بتائی ہے، لیکن یہ پوری رقم امریکی حکومت کا نقصان نہیں ہے،رپورٹ میں 75 ارب ڈالر سالانہ کو مرکزی تخمینہ استعمال کیا گیا ہے،اسی مرکزی تخمینے کی بنیاد پر وائٹ ہاؤس نے اندازہ لگایا ہے کہ امریکا کو سالانہ تقریباً 19 ارب سے 26 ارب ڈالر کے وفاقی محصولات، خصوصاً ٹیرف آمدنی، سے محرومی ہو سکےی ہے
رپورٹ میں اس کے معاشی اثرات کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے،75 ارب ڈالر کے مرکزی منظرنامے میں تقریباً 450,000 ملازمتوں کے براہ راست اور بالواسطہ متاثر ہونے، امریکی مجموعی ملکی پیداوار میں سالانہ 113 ارب سے 150 ارب ڈالر کی کمی اور وفاقی آمدنی میں 19 ارب سے 26 ارب ڈالر کی کمی کا اندازہ پیش کیا گیا ہے،لیکن وائٹ ہاؤس نے خود واضح کیا ہے کہ یہ ماڈل کی بنیاد پر لگائے گئے تخمینے ہیں، حقیقی طور پر گنی گئی ختم شدہ ملازمتوں یا ثابت شدہ معاشی نقصان کے اعداد نہیں ہے
پیٹر ناوارو نے اس معاملے کو انتہائی سخت الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ چین برسوں سے 40 سے زیادہ ممالک کے ذریعے اپنی مصنوعات کا اصل ماخذ چھپا کر امریکی ٹیرف سے بچ رہا ہے،تاہم ان کے بیان اور رپورٹ دونوں میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ واشنگٹن کی توجہ صرف چین پر نہیں بلکہ ان ممالک پر بھی ہے جو ایسے تجارتی راستے فراہم کرتے ہیں،
امریکی انتظامیہ اب اس طریقے کو روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لینے کی تیاری کر رہی ہے،امریکی کسٹمز نے ایک ابتدائی مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کرنا شروع کیا ہے جو عالمی تجارتی اعداد و شمار، سامان کے راستوں، مصنوعات کے ماخذ اور درآمدی دستاویزات میں غیر معمولی نمونوں کی نشاندہی کر سکے گا،اسے ’’ڈیٹیکٹو بارڈر‘‘ کے نام سے بیان کیا گیا ہے
امریکی حکام کے مطابق اگر کسی درآمد کنندہ کو جان بوجھ کر مصنوعات کا اصل ملک غلط ظاہر کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس پر سابقہ مدت کے لیے بھی اضافی ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں،اس طرح واشنگٹن کا مقصد صرف نئی درآمدات کو روکنا نہیں بلکہ پہلے سے ہونے والی ممکنہ ٹیرف چوری کی بھی مالی قیمت وصول کرنا ہے
تاہم اس رپورٹ پر ایک اہم سوال بھی اٹھ رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر تجارتی تجزیوں کے مطابق وائٹ ہاؤس کی رپورٹ نے ٹرانس شپمنٹ کے ممکنہ حجم کے لیے پہلے سے موجود مختلف اندازوں پر انحصار کیا ہے، اس لیے 303 ارب ڈالر کا وسیع ترین عدد نئی تحقیق سے براہ راست ثابت شدہ رقم نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ تجارتی ماہرین اس اعداد و شمار کو محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں
تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے کی اہمیت صرف چین کی ممکنہ ٹیرف چوری تک محدود نہیں،2018 کے بعد امریکا نے چین سے براہ راست درآمدات پر بھاری ٹیرف عائد کیے تو عالمی سپلائی چین نے خود کو نئے راستوں کے مطابق ڈھالنا شروع کیا،اگر چین کی مصنوعات تیسرے ممالک کے ذریعے امریکا پہنچ رہی ہیں تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکی ٹیرف نے تجارت کو ختم کرنے کے بجائے اس کے راستے تبدیل کرنے کی ترغیب دی ہے،یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اب صرف ٹیرف بڑھانے کے بجائے مصنوعات کے اصل ماخذ کی نگرانی، کسٹمز کے نفاذ اور تیسرے ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں سخت قواعد پر زور دے رہا ہے
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات بدستور حساس ہیں اور صدر ٹرمپ کی انتظامیہ چین کے ساتھ ساتھ ان ممالک پر بھی دباؤ بڑھا رہی ہے جو چینی مصنوعات کے لیے متبادل تجارتی راستہ بن سکتے ہیں،،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل کے تجارتی معاہدوں میں ایسے ممالک کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی جائے گی جو جان بوجھ کر ٹرانس شپمنٹ کے ذریعے امریکی ٹیرف سے بچنے میں مدد دی
یوں وائٹ ہاؤس کی رپورٹ کا اصل دعویٰ یہ نہیں کہ چین نے 303 ارب ڈالر کا مال غیر قانونی طور پر امریکا پہنچایا اور امریکا نے اتنی ہی رقم کھو دی ،اصل دعویٰ یہ ہے کہ ممکنہ غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ کا سالانہ حجم 40 ارب سے 303 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے، جبکہ مرکزی تخمینے کے مطابق 75 ارب ڈالر کے مال کی ایسی ترسیل سے امریکا کو سالانہ 19 ارب سے 26 ارب ڈالر کے ٹیرف اور وفاقی محصولات کا نقصان ہو سکتاہے 





