امریکا میں روبوٹ ویکیوم پر پابندی کیوں لگ رہی ہے، صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے

امریکا میں روبوٹ ویکیوم پر پابندی کیوں لگ رہی ہے، صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے

امریکی حکومت نے غیر ملکی ساختہ جدید روبوٹس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کی زد میں گھروں میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والے روبوٹ ویکیوم بھی آ گئے ہیں
امریکی وفاقی مواصلاتی کمیشن نے حال ہی میں جدید روبوٹک آلات اور غیر ملکی ساختہ بجلی کے انورٹرز کو اپنی ’’کورڈ لسٹ‘‘ میں شامل کیا ہے،یہ فہرست ان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی آلات پر مشتمل ہے جنہیں امریکی حکومت قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے
وفاقی مواصلاتی کمیشن کے مطابق اس فہرست میں شامل ٹیکنالوجی ایسی ہے جو ’’امریکا کی قومی سلامتی یا امریکی شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کے لیے ناقابل قبول خطرہ‘‘ بن سکتی ہے
نئی پابندی کا تعلق روبوٹ ویکیوم کی بیٹری واپس منگوانے، زیادہ گرم ہونے یا کسی تکنیکی خرابی سے نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی تعلق قومی سلامتی اور غیر ملکی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے ہے
اگر کوئی ایسا روبوٹک آلہ مذکورہ فہرست میں شامل ہو تو اسے امریکی مارکیٹ میں نئی منظوری حاصل کرنے کے حوالے سے شدید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی گھروں میں پہلے سے موجود ہر روبوٹ ویکیوم فوری طور پر ضبط کر لیا جائے گا یا اس کا استعمال غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا
حکومت کی جانب سے جدید غیر ملکی ساختہ روبوٹس کو محدود کرنے کا فیصلہ اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت امریکی حکام ایسی ٹیکنالوجی کو محدود کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے حساس معلومات تک رسائی یا امریکی سلامتی کو ممکنہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے
روبوٹ ویکیوم اس معاملے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ جدید ماڈلز گھروں کے اندر نقشے تیار کرنے، کیمروں اور دیگر سینسرز کے ذریعے ماحول کو جانچنے اور بعض صورتوں میں انٹرنیٹ سے منسلک رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اسی وجہ سے ان آلات کے بارے میں ڈیٹا کی رازداری اور قومی سلامتی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں

قومی خبریں سے مزید