بلوچستان کے زخم گہرے، دہشت گردی کے ساتھ سیاسی مفاہمت کی ضرورت
بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے بدامنی اور شورش کا سامنا کر رہا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں صوبے میں دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سرکاری عہدیدار بھی حملوں سے محفوظ نہیں رہے
گزشتہ روز بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو کے قافلے پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ قلات سے کوئٹہ واپس آ رہے تھے۔ حملے میں وزیر داخلہ محفوظ رہے، تاہم ان کے ہمراہ موجود بعض اہلکار زخمی ہوگئے
اسی دوران دہشت گردوں کی جانب سے گیس کی ایک اہم پائپ لائن کو نقصان پہنچائے جانے کے بعد کئی علاقوں میں گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ سکیورٹی صورتحال کے باعث پائپ لائن کی مرمت کا کام بھی تاحال شروع نہیں ہوسکا
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے حال ہی میں تشدد میں ملوث عناصر کو دوبارہ قومی دھارے میں آنے اور حکومت سے مذاکرات کرنے کی دعوت دی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بے گناہ لوگوں کے قتل میں ملوث افراد سے مذاکرات نہیں کیے جاسکتے
تجزیے کے مطابق صرف مذاکرات کی دعوت کافی نہیں، بلکہ ایسے حالات بھی پیدا کرنا ضروری ہیں جن میں سیاسی مفاہمت کا عمل آگے بڑھ سکے۔ اس مقصد کے لیے بزرگ بلوچ سیاست دانوں کے ساتھ نوجوان سیاسی کارکنوں کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے اور ان کے تحفظات سننے کی ضرورت ہے
پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں مصروف افراد کے خلاف مشتبہ مقدمات کا جائزہ لینا بھی اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد بلوچستان کے قدرتی وسائل، خصوصاً معدنی دولت میں مقامی آبادی کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے طویل مدتی اقدامات کیے جاسکتے ہیں
صوبے کی خراب معاشی اور سماجی صورتحال بھی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ غربت، پسماندگی اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل ایک طویل عرصے میں پیدا ہوئے ہیں اور انہیں ختم کرنے میں بھی وقت لگے گا، لیکن اس کے لیے عملی اقدامات ابھی سے شروع کرنا ہوں گے
دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی کارروائیاں اپنی جگہ ضروری ہیں، تاہم مستقل حل صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ بلوچستان کے مسئلے کا دیرپا حل سیاسی عمل، مفاہمت اور مقامی آبادی کے حقیقی نمائندوں کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے
بلوچستان کے عوام اب یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حکومت مفاہمت کی بات کو عملی اقدامات میں کس طرح تبدیل کرتی ہے اور صوبے میں امن، سیاسی اعتماد اور ترقی کے لیے کیا مستقل راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔





