یورپ میں جنگلات کی خوفناک آگ، کروشیا اور یونان کے سیاحتی علاقوں سے سینکڑوں افراد کا انخلا

یورپ میں جنگلات کی خوفناک آگ، کروشیا اور یونان کے سیاحتی علاقوں سے سینکڑوں افراد کا انخلا

کروشیا: یورپ میں شدید گرمی اور خشک سالی کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کروشیا کے خوبصورت ساحلی سیاحتی مقام اومیش میں آگ گھروں تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 40 افراد زخمی ہوگئے جبکہ تقریباً 1200 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا
ہسپتال حکام کے مطابق زخمی ہونے والے 40 افراد میں سے 7 کی حالت تشویشناک ہے۔ آگ کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی رہائشیوں اور سیاحوں نے اپنی گاڑیوں کے ذریعے محفوظ مقامات کی طرف نکلنے کی کوشش کی
یونان کے شمالی ساحلی علاقے سیوری میں بھی جنگلات کی آگ بھڑک اٹھی، جہاں 300 سے زیادہ افراد کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ آگ پر قابو پانے کے لیے 140 سے زیادہ فائر فائٹرز کے ساتھ 9 طیارے اور 7 ہیلی کاپٹر بھی کارروائی میں مصروف رہے
فرانس کے جنوب مغربی علاقے لاند میں بھی جنگلات کی آگ کے باعث 525 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، جبکہ اسپین کے جنوبی علاقے ہوئیلوا میں لگنے والی بڑی آگ نے تقریباً 31 ہزار ہیکٹر رقبہ جلا دیا اور 700 افراد کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا
برطانیہ اور ویلز میں بھی مسلسل دوسرے سال جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ حکام کے مطابق رواں موسم گرما میں شدید گرمی کی پانچ لہریں آ چکی ہیں، جس سے آگ پھیلنے کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے
ماہرین کے مطابق شدید گرمی، طویل خشک سالی اور بدلتے موسمی حالات نے یورپ کے کئی حصوں میں جنگلات کی آگ کے لیے انتہائی خطرناک حالات پیدا کر دیے ہیں، خصوصاً فرانس، اسپین، یونان اور بلقان کے خطے اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید