شمالی کوریا کی امریکہ اور جنوبی کوریا کو نئی جوہری طاقت کے استعمال کی دھمکی
شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں سے قبل خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیت کو مزید نئی سطح تک لے جا سکتا ہے۔ پیانگ یانگ نے ان فوجی مشقوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے اور جنگ کی تیاری قرار دیا ہے
جنوبی کوریا اور امریکہ کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں 17 اگست سے 27 اگست تک جاری رہیں گی۔ ان مشقوں کا نام الچی فریڈم شیلڈ رکھا گیا ہے اور ان میں شمالی کوریا سے لاحق ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کی جائے گی
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کسی نئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پیانگ یانگ نئی سطح کی دفاعی طاقت استعمال کرے گا۔ شمالی کوریا کا الزام ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی سرگرمیاں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہو گئی ہیں
دوسری جانب امریکہ اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ مشترکہ فوجی مشقوں کا مقصد شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ حملے کے خلاف دفاعی تیاری اور فوجی استعداد کو بہتر بنانا ہے۔ رواں سال کی مشقوں میں ڈرونز، جی پی ایس میں خلل اور سائبر حملوں جیسے جدید جنگی خطرات سے نمٹنے کی تربیت پر بھی توجہ دی جائے گی
کشیدگی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ شمالی کوریا کی حالیہ میزائل سرگرمیاں بھی ہیں۔ پیانگ یانگ نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جنہیں ماہرین امریکہ اور جنوبی کوریا کی آئندہ فوجی مشقوں کے خلاف احتجاج اور اپنی میزائل صلاحیتوں کے تجربے سے جوڑ رہے ہیں
تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کی تازہ دھمکی سے خدشہ پیدا ہوا ہے کہ فوجی مشقوں کے دوران پیانگ یانگ مزید میزائل تجربات یا دیگر فوجی سرگرمیاں کر سکتا ہے، جس سے جزیرہ نما کوریا میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔





