ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو سائبر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف ہیکنگ کی اجازت دے دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی قومی سلامتی یادداشت کے ذریعے منتخب امریکی کمپنیوں کو بیرونِ ملک موجود سائبر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف محدود جوابی سائبر کارروائیاں کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کا مقصد رینسم ویئر اور دیگر خطرناک سائبر حملوں سے نمٹنا ہے
وائٹ ہاؤس کے مطابق ان کمپنیوں کو محکمہ انصاف اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے مخصوص شرائط کے تحت غیر ملکی سائبر جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف ہیکنگ کارروائیاں کرنے کی اجازت ہوگی،ان کارروائیوں میں جرائم پیشہ گروہوں کی نگرانی کے ساتھ ان کے کمپیوٹر نیٹ ورکس میں مداخلت، سرگرمیوں میں خلل ڈالنا اور بعض حالات میں معلومات یا نظام کو تبدیل یا تباہ کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے
یہ پالیسی امریکا کے سائبر سکیورٹی نظام میں ایک اہم تبدیلی قرار دی جارہی ہے، کیونکہ اب تک ایسے جارحانہ سائبر آپریشنز بنیادی طور پر امریکی حکومت اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ذمہ داری رہے ہیں
نئی پالیسی کے تحت نجی شعبے کی منتخب کمپنیوں کو حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کارروائی کا اختیار ملے گا، تاہم سابق حکام اور سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نجی کمپنیوں کو سائبر حملوں کی اجازت دینے سے غیر متوقع نتائج، جوابی حملوں اور سائبر دنیا میں افراتفری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
یہ اقدام امریکا کو چین اور روس جیسے ممالک کے طریقہ کار کے قریب بھی لے جاتا ہے، جہاں حکومتی ادارے قومی سلامتی کے مقاصد کے لیے نجی شعبے سے وابستہ ہیکرز اور سائبر ماہرین کی خدمات استعمال کرتے رہے ہیں،
ماہرین کے مطابق پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت نجی کمپنیوں کی کارروائیوں کی نگرانی کس حد تک مؤثر انداز میں کرتی ہے اور اس بات کو کیسے یقینی بناتی ہے کہ مجرمانہ سائبر گروہوں کے خلاف کارروائیاں غلط اہداف یا عام شہریوں کے ڈیجیٹل نظام کو متاثر نہ کریں





