زندگی کو ہر وقت بہتر بنانے کی دوڑ کے خلاف ردعمل شروع

زندگی کو ہر وقت بہتر بنانے کی دوڑ کے خلاف ردعمل شروع

لوگ ہر لمحے اپنی کارکردگی، صحت، نیند، خوراک اور روزمرہ معمولات کو بہتر بنانے کی دوڑ سے اب تھکنے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں مسلسل خود کو بہتر بنانے کے رجحان کے خلاف ایک نیا ردعمل سامنے آ رہا ہے
نیند کی نگرانی کرنے والی گھڑیاں، صحت کے اعداد و شمار، ورزش کے اہداف، پیداواری صلاحیت کے پیمانے اور روزمرہ زندگی کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنانے کے طریقوں نے گزشتہ برسوں میں ایک ایسی ثقافت کو جنم دیا جس میں انسان اپنی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو ناپنے اور بہتر کرنے کی کوشش کرتا رہا
لیکن اب ایک بڑھتا ہوا رجحان اس سوچ کو چیلنج کر رہا ہے،لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا زندگی کا مقصد ہر کام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے، یا کبھی کبھی بغیر کسی ہدف، پیمائش یا کارکردگی کے دباؤ کے زندگی گزارنا بھی ضروری ہے
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی اس احساس کی عکاسی کرتی ہے کہ مسلسل بہتری کی کوشش خود ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے،لوگ اب اعداد و شمار اور کارکردگی کے بجائے سکون، خوشی، تعلقات اور زندگی کے حقیقی تجربے کو زیادہ اہمیت دینے کی طرف مائل ہو رہے ہیں
یعنی ’’بہتر زندگی‘‘ حاصل کرنے کی دوڑ میں ایک نیا سوال سامنے آ گیا ہے: کیا ہر چیز کو بہتر بنانا واقعی ضروری ہے

قومی خبریں سے مزید