نیوجرسی کے حراستی مرکز میں زیرحراست تیسرا تارک وطن بھی ہلاک، آئی سی ای نے ایک ہفتے بعد تصدیق کردی

نیوجرسی کے حراستی مرکز میں زیرحراست تیسرا تارک وطن بھی ہلاک، آئی سی ای نے ایک ہفتے بعد تصدیق کردی

امریکی حکام نے نیوجرسی کے شہر نیوارک میں واقع ڈیلینی ہال حراستی مرکز میں ایک تیسرے تارک وطن کی ہلاکت کی ایک ہفتے سے زائد تاخیر کے بعد تصدیق کردی ہے،حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص گوئٹے مالا کا شہری جوزے چاخون راخون تھا، جسے حراستی مرکز میں منتقل کیے جانے کے ایک روز بعد طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق جوزے چاخون راخون کو 18 جولائی کو حراستی مرکز میں داخل کیا گیا تھا اور 19 جولائی کو طبی عملے نے اسے دورہ پڑنے کی حالت میں پایا،تاہم حکام کی جانب سے اس کی موت کی اطلاع فوری طور پر عوام کے سامنے نہیں لائی گئی
یہ معاملہ اس وقت مزید متنازع ہوگیا جب رکن کانگریس روب مینینڈیز نے 3 اگست کو حراستی مرکز کے اچانک معائنے کے بعد بتایا کہ انہیں حکام کی جانب سے مذکورہ شخص کی ہلاکت کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا،محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے اب جاری کی گئی تفصیلات تاہم امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے کانگریس رکن کو فراہم کردہ معلومات سے مختلف ہیں
اس تضاد نے جوزے چاخون راخون کی موت کے درست وقت اور اس وقت کے بارے میں نئے سوالات اٹھا دیے ہیں جب انہیں باضابطہ طور پر آئی سی ای کی تحویل سے رہا کیا گیا تھا
ڈیلینی ہال حراستی مرکز میں یہ تیسری ہلاکت ہے جس کی حالیہ عرصے میں اطلاع سامنے آئی ہے، جس کے بعد امیگریشن حراستی مراکز میں زیرحراست افراد کی طبی سہولتوں، نگرانی اور حکام کی جانب سے ہلاکتوں کی بروقت اطلاع کے حوالے سے سوالات مزید شدت اختیار کرگئے ہیں

قومی خبریں سے مزید