پاکستان کے ساتھ بھارت کے اپنے پانی کے اور بھی تنازعے ہیں ، کاویری صرف پانی کا تنازع نہیں، دریائے کاویری پر تامل ناڈو اور کرناٹک میں جھگڑے بڑھنے لگے
کاویری دریا کو عموماً کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان پانی کے تنازع کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی اہمیت اس سے کہیں وسیع ہے،یہ دریا دونوں ریاستوں کی تاریخ، ثقافت، سیاست اور لاکھوں لوگوں کی روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے
کاویری کا منبع کرناٹک میں ہے، جہاں سے یہ دریا تمل ناڈو کی جانب بہتا ہوا خلیج بنگال میں جاگرتا ہے،اس کے پانی پر دونوں ریاستوں کی زراعت کا بڑا انحصار ہے، خصوصاً کاویری کے طاس میں چاول، گنا اور دیگر فصلوں کی کاشت کے لیے یہ دریا بنیادی حیثیت رکھتا ہے
دونوں ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازع برطانوی دور تک جاتا ہے۔ 1892 اور 1924 کے معاہدوں سے لے کر آج تک کاویری کے پانی کی تقسیم ایک حساس سیاسی مسئلہ بنی ہوئی ہے،بارش کم ہونے یا دریائی پانی کی قلت کے دوران اختلافات مزید شدت اختیار کرلیتے ہیں اور یہ معاملہ سڑکوں سے لے کر عدالتوں اور سیاست کے ایوانوں تک پہنچ جاتا ہے
اس کے باوجود کاویری دونوں ریاستوں کے درمیان ایک مشترکہ تہذیبی رشتہ بھی ہے،دریا سے وابستہ مذہبی روایات، تہوار، ادب اور مقامی ثقافت نے صدیوں کے دوران دونوں خطوں کی شناخت کو متاثر کیا ہے
یوں کاویری صرف پانی کی تقسیم کا سوال نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، سیاست اور معاشی مفادات کا ایسا مشترکہ محور ہے جو کرناٹک اور تمل ناڈو کو ایک دوسرے سے جوڑتا بھی ہے اور پانی کی قلت کے وقت ان کے درمیان اختلاف کی بنیادی وجہ بھی بن جاتا ہے، عین دریائے سندھ کی طرح کہ دونوں ملکوں کی تہذیب تمدن ہی نہیں زمینی شناخت سے شخصی پہچان تک دریائے سندھ ہے جو پورے خطے کے ہر انسان کی تہذیب کا منبع ہے تو اسکا پانی وجہ اختلاف بھی





