کالج کھیلوں میں کانگریس کی مداخلت، کھلاڑی جیتیں گے یا طاقتور ادارے؟

کالج کھیلوں میں کانگریس کی مداخلت، کھلاڑی جیتیں گے یا طاقتور ادارے؟

امریکا میں کالج کھیلوں کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں کانگریس اب مداخلت کی تیاری کر رہی ہے، جہاں قانون ساز جدید کالج کھیلوں کے اس نظام کو ضابطے میں لانے پر غور کر رہے ہیں جسے ناقدین ’’جنگل کا قانون‘‘ قرار دیتے ہیں
ساؤتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے سابق ممتاز فٹ بال کھلاڑی مارکس لَٹی مور، جو کالج کھیلوں میں شہرت اور مالی مفادات کے اثرات کو قریب سے دیکھ چکے ہیں، موجودہ کھلاڑیوں کے مستقبل کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں،وہ موجودہ کھلاڑیوں کو اپنے ’’چھوٹے بھائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ان کے لیے ’’خوف زدہ‘‘ ہیں
لَٹی مور کے کالج کھیلنے کے تقریباً 15 سال بعد کھیلوں کی دنیا مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے،کھلاڑی اب اپنے نام، تصویر اور تشہیری حقوق سے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ بڑے کالج پروگرام ٹیلی وژن معاہدوں، اسپانسرشپس اور دیگر ذرائع سے اربوں ڈالر کی صنعت کا حصہ بن چکے ہیں
اسی پس منظر میں امریکی قانون ساز ’’پروٹیکٹ کالج اسپورٹس ایکٹ‘‘ پر غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد کالج کھیلوں میں وفاقی سطح پر ایسے ضابطے متعارف کرانا ہے جو کھلاڑیوں، یونیورسٹیوں اور کھیلوں کی تنظیموں کے درمیان تعلقات کو واضح کریں
تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کانگریس کالج کھیلوں کے لیے قواعد طے کرتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا،کھلاڑیوں کو، جو اس نظام میں اپنی محنت اور صلاحیت سے اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کرتے ہیں، یا طاقتور یونیورسٹیوں اور کھیلوں کی تنظیموں کو، جو اس صنعت سے پہلے ہی بڑے مالی فوائد حاصل کر رہی ہیں؟
کالج کھیلوں کی بڑھتی ہوئی تجارتی حیثیت نے کھلاڑیوں کے حقوق، معاوضے، منتقلی، تشہیری معاہدوں اور یونیورسٹیوں کی ذمہ داریوں سے متعلق تنازعات کو جنم دیا ہے،کانگریس کی نئی قانون سازی ان مسائل کو ایک قومی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں یہ بھی طے ہوگا کہ مستقبل کے کالج کھیلوں میں اصل طاقت کس کے ہاتھ میں ہوگی

قومی خبریں سے مزید