جاپان کے ولی عہد شہزادہ اکی شینو نے صرف مردوں کی بادشاہت کی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار کر دیا

جاپان کے ولی عہد شہزادہ اکی شینو نے صرف مردوں کی بادشاہت کی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار کر دیا

جاپان کے ولی عہد شہزادہ اکی شینو نے شاہی تخت کی جانشینی صرف مردوں تک محدود رکھنے والے قانون میں حالیہ ترمیم پر ’’ملے جلے جذبات‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہی خاندان کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے معاملے میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے
شہزادہ اکی شینو، جو موجودہ بادشاہ ناروہیتو کے چھوٹے بھائی اور تخت کے اگلے وارث ہیں، نے یہ بات جمعرات کو ٹوکیو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی،وہ رواں ماہ کے آخر میں جاپانی تارکینِ وطن کی پیراگوئے آمد کے 90 سال مکمل ہونے کی تقریبات میں شرکت کے لیے پیراگوئے جانے والے ہیں
ان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل وزیراعظم سناے تاکائیچی کی قدامت پسند حکومت نے شاہی خاندان کے جانشینی قانون میں تاریخی ترمیم کی ہے، جس کے تحت صرف باپ کی طرف سے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے مرد ہی بادشاہ بن سکتے ہیں
شہزادہ اکی شینو نے کہا کہ معاشرے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شاہی خاندان کے فرائض انجام دینے میں مردوں اور خواتین کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہے،ان کا یہ مؤقف جاپان میں شاہی تخت کی جانشینی کے مستقبل اور خواتین کے ممکنہ طور پر بادشاہ بننے کے حق پر جاری بحث کو دوبارہ نمایاں کر سکتا ہے
جاپان کا موجودہ شاہی نظام دنیا کے قدیم ترین موروثی شاہی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، تاہم تخت کی جانشینی کے حوالے سے مردوں کو ترجیح دینے کا اصول طویل عرصے سے ملک میں سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع رہا ہے

قومی خبریں سے مزید