بھارت میں ایتھنول ملے پٹرول پر کار ساز کمپنیوں کی تشویش کا انکشاف
نئی دہلی: بھارت میں 20 فیصد ایتھنول ملے پٹرول کے استعمال کے حوالے سے نئی تشویش سامنے آئی ہے۔ بڑی بھارتی کار ساز کمپنیوں کی اندرونی ای میلز سے انکشاف ہوا ہے کہ کمپنیوں نے پٹرول میں آلودگی اور کلورائیڈ کی غیر معمولی مقدار کے باعث گاڑیوں کے انجن اور دیگر اہم پرزوں کو ممکنہ نقصان پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے تھے
رپورٹ کے مطابق ماروتی سوزوکی، ٹاٹا موٹرز اور مہندرا سمیت بڑی کمپنیوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت کے مختلف علاقوں سے پٹرول کے 250 سے زیادہ نمونے حاصل کرکے ان کی جانچ کی۔ یہ نمونے ملک کی 21 ریاستوں اور علاقوں سے جمع کیے گئے تھے
جانچ کے دوران بعض نمونوں میں کلورائیڈ کی مقدار مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ پائی گئی۔ راجستھان کے بعض نمونوں میں کلورائیڈ کی مقدار 570 حصے فی دس لاکھ تک پہنچ گئی، جبکہ نئی دہلی میں یہ مقدار 420 اور مہاراشٹر میں 357 حصے فی دس لاکھ تک ریکارڈ کی گئی۔ بھارتی حکومت کی مقررہ حد صرف 3 حصے فی دس لاکھ ہے
بعض علاقوں میں پٹرول کے اندر نمی کی مقدار بھی مقررہ معیار سے کہیں زیادہ پائی گئی۔ آندھرا پردیش کے بعض نمونوں میں نمی 13 ہزار حصے فی دس لاکھ جبکہ اتر پردیش میں 12 ہزار 500 حصے فی دس لاکھ تک ریکارڈ ہوئی، حالانکہ مقررہ حد 3 ہزار حصے فی دس لاکھ ہے
کار ساز کمپنیوں کے بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایندھن میں موجود کلورائیڈ اور دیگر آلودگی گاڑیوں کے فیول انجیکٹر، ایندھن کے نظام اور انجن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایک اندرونی ای میل میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا کہ بعض حالات میں گاڑی کا انجن صرف چند سو کلومیٹر چلنے کے بعد متاثر ہو سکتا ہے
تاہم کمپنیوں کی ان تشویشوں کے باوجود بھارتی حکومت نے ملک میں استعمال ہونے والے E20 پٹرول کو بڑے پیمانے پر غیر محفوظ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری تیل کمپنیوں نے پٹرول پمپس پر ایندھن کے معیار کی جانچ شروع کر دی تھی اور بڑے پیمانے پر کیے گئے ٹیسٹوں میں E20 پٹرول کے حوالے سے کسی بڑے خطرے کی تصدیق نہیں ہوئی
بھارت کی مرکزی آٹو موبائل تنظیم نے بھی حکومت کو بھیجی گئی اپنی ابتدائی شکایت واپس لے لی۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر حاصل کیے گئے اعداد و شمار کی مزید تصدیق ضروری ہے اور اس معاملے پر زیادہ جامع سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے
بھارت میں E20 پٹرول حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد پٹرول میں ایتھنول کا استعمال بڑھا کر تیل کی درآمدات کم کرنا اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا ہے۔ تاہم صارفین کی جانب سے پہلے ہی گاڑیوں کی مائلیج میں کمی اور بعض پرزوں سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی ہیں
نئی معلومات کے بعد اصل توجہ اب اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ پٹرول میں پائی جانے والی آلودگی کہاں سے آ رہی ہے، آیا مسئلہ خود E20 ایندھن میں ہے یا ذخیرہ کرنے اور ترسیل کے نظام میں، اور اس کا گاڑیوں کی کارکردگی اور انجن کی عمر پر حقیقی اثر کتنا ہے
حکام کا کہنا ہے کہ E20 پٹرول کے معیار کی نگرانی جاری رکھی جائے گی، جبکہ کار ساز کمپنیوں کی جانب سے مزید جانچ اور سائنسی تحقیق کے بعد ہی اس معاملے کی مکمل تصویر سامنے آ سکے گی





