پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی میں ناگزیر ملک بن کر ابھر رہا ہے

پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی میں ناگزیر ملک بن کر ابھر رہا ہے

اسلام آباد/ریاض: مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگی اور سفارتی صورتحال نے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی و ایرانی کشیدگی اور خلیجی ممالک کو درپیش سکیورٹی خطرات کے باعث پاکستان اب خطے میں ایک اہم دفاعی اور سفارتی شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
، گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کو زیادہ تر دہشت گردی کے خلاف جنگ، بھارت کے ساتھ کشیدگی اور جوہری طاقت کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا، تاہم موجودہ علاقائی حالات نے پاکستان کے کردار کی ایک نئی تصویر پیش کی ہے
پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی ایک بڑی مثال ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ ہے
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاض میں معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ سعودی اور پاکستانی حکام کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے دیرینہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بناتا ہے
تجزیے کے مطابق خلیجی ممالک نے طویل عرصے سے اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر انحصار کیا، لیکن حالیہ علاقائی بحرانوں نے انہیں اپنے دفاعی شراکت داروں کو متنوع بنانے پر مجبور کیا ہے
پاکستان پہلے ہی کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی فوجی تربیت، دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس روابط میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اسی تجربے کی وجہ سے اسلام آباد کو ایک ایسے شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو عملی دفاعی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے
پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی طاقت یہ ہے کہ اس کے ایران کے ساتھ بھی تعلقات ہیں اور سعودی عرب و دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ بھی قریبی روابط ہیں
یہ پوزیشن اسلام آباد کو خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے لیے رابطہ قائم رکھنے اور مختلف فریقوں کے درمیان سفارتی پل کا کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے
پاکستان کے امریکا کے ساتھ بھی دیرینہ دفاعی تعلقات ہیں جبکہ چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔ اس طرح اسلام آباد ایک ہی وقت میں متعدد اہم طاقتوں سے رابطے میں رہ سکتا ہے
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکا بھی اپنے علاقائی اتحادیوں کو اپنی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھانے کی ترغیب دے رہا ہے
ایسے ماحول میں پاکستان ایک علاقائی سکیورٹی پارٹنر کے طور پر امریکا کے لیے بھی اہم ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ پہلے سے گہرے فوجی روابط رکھتا ہے
پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ اہمیت صرف دفاع تک محدود نہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں بڑی پاکستانی کمیونٹی موجود ہے، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ترسیلاتِ زر دونوں جانب کے تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہیں
پاکستانی حکومت بھی سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیتی رہی ہے
تجزیے کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ موجودہ بحران پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی اسٹریٹجک موقع پیدا کر رہا ہے
اگر اسلام آباد ایران، سعودی عرب، خلیجی ممالک، امریکا اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن انداز میں استعمال کرتا ہے تو پاکستان صرف ایک دفاعی شراکت دار نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی، سفارت کاری اور علاقائی استحکام کا اہم کردار بن سکتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید