اوک ول میں نئے ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر ایک سال کی پابندی
اوک ول ٹاؤن کونسل نے نئے ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر ایک سال کی پابندی عائد کردی ہے۔ اوک ول اونٹاریو کی پہلی بلدیہ بن گئی ہے جس نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے شعبے کے لیے بنائے جانے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز پر عارضی پابندی لگائی ہے
کونسل نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے موجودہ قواعد کا جائزہ لیں اور یہ معلوم کریں کہ شور، ارتعاش، اخراج، بجلی کے استعمال اور زمین کے استعمال جیسے ممکنہ مسائل سے نمٹنے کے لیے مزید ضوابط کی ضرورت ہے یا نہیں
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اونٹاریو کی متعدد بلدیات مصنوعی ذہانت کے لیے درکار بڑے ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ پڑوسی شہر مسی ساگا بھی نئے ڈیٹا سینٹرز پر عارضی پابندی کے معاملے پر آئندہ ماہ ووٹ دینے والا ہے
اوک ول میں فی الحال کسی نئے ڈیٹا سینٹر کے قیام کی باقاعدہ درخواست موجود نہیں، تاہم ٹیکنالوجی کمپنی ہائیو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز نے مئی میں گریٹر ٹورنٹو ایریا میں 320 میگاواٹ کے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹر کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ زمین کے ریکارڈ کے مطابق کمپنی کی ایک ذیلی کمپنی نے اعلان سے چند روز قبل اوک ول میں جائیداد خریدی تھی
دوسری جانب ہیملٹن میں ڈیٹا سینٹرز پر پابندی کی تجویز کونسل میں پیش کی گئی تھی، تاہم وہ منظور نہ ہوسکی۔ واٹر لو ریجن نے بھی ڈیٹا سینٹرز کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ٹورنٹو سٹی کونسل بھی اس معاملے پر اقدامات کرچکی ہے
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث ڈیٹا سینٹرز کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ مراکز انتہائی طاقتور کمپیوٹر چپس استعمال کرتے ہیں اور انہیں چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے
کینیڈا میں اس وقت بڑے پیمانے کے ڈیٹا سینٹرز کی تعداد محدود ہے، لیکن درجنوں نئے منصوبے زیر غور ہیں۔ ماہرین اور مقامی حکام کو خدشہ ہے کہ ان منصوبوں سے بجلی، پانی، زمین کے استعمال، شور اور ماحول پر مقامی سطح پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔





