ٹرمپ کی ویکسین پالیسی میں بڑی تبدیلیاں، کینیڈا بھی متاثر ہونے کا خدشہ

ٹرمپ کی ویکسین پالیسی میں بڑی تبدیلیاں، کینیڈا بھی متاثر ہونے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بچوں کی ویکسین سے متعلق پالیسی میں بڑی تبدیلیوں نے امریکا کے ساتھ ساتھ کینیڈا میں بھی صحت عامہ کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے
ٹرمپ نے 11 اگست کو ایک نئے انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے جس کے تحت امریکا میں بچوں کے لیے معمول کی ویکسین کی سفارشات میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نئی پالیسی میں معمول کے طور پر تجویز کی جانے والی ویکسین کی تعداد 18 سے کم کرکے 11 کرنے کی ہدایت کی گئی ہے
نئی پالیسی میں خسرہ، ممپس اور روبیلا یعنی ایم ایم آر ویکسین کو ایک مشترکہ ویکسین کے بجائے تین الگ ویکسینز کی صورت میں دینے کے امکان کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق امریکا میں ان تینوں بیماریوں کے لیے الگ الگ ویکسین اس وقت دستیاب یا لائسنس یافتہ نہیں ہیں اور انہیں تیار کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ امریکی پالیسی میں تبدیلیاں کینیڈا پر براہ راست قانون کے طور پر لاگو نہیں ہوں گی کیونکہ کینیڈا اپنی ویکسین پالیسی اور حفاظتی ٹیکوں کا نظام خود طے کرتا ہے۔ کینیڈا میں ویکسین سے متعلق سفارشات نیشنل ایڈوائزری کمیٹی آن امیونائزیشن سمیت ملکی صحت کے اداروں کی رہنمائی کے تحت مرتب کی جاتی ہیں
تاہم تشویش اس بات پر ہے کہ امریکا میں ویکسین سے متعلق بدلتی ہوئی سرکاری پالیسی عوامی رویوں اور ویکسین پر اعتماد کو متاثر کرسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکا میں ویکسین لگوانے کی شرح کم ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں خسرہ جیسی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات سرحد پار بھی پہنچ سکتے ہیں
امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ویکسینیشن کے شیڈول میں غیر ضروری تاخیر یا تبدیلی والدین میں الجھن پیدا کرسکتی ہے اور بچوں کو قابل علاج بیماریوں سے تحفظ کے حوالے سے خطرات بڑھ سکتے ہیں
کینیڈا میں فی الحال ویکسین کے حوالے سے اپنی موجودہ سائنسی رہنما اصول برقرار ہیں، تاہم صحت عامہ کے ماہرین امریکا میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سرحد پار اثرات سے نمٹا جاسکے۔

قومی خبریں سے مزید