ٹرمپ کے نئے ٹیرف سے کینیڈین برآمد کنندگان کی نصف آمدنی ختم ہونے کا خدشہ

ٹرمپ کے نئے ٹیرف سے کینیڈین برآمد کنندگان کی نصف آمدنی ختم ہونے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر نئے 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے خدشے نے کینیڈا کے چھوٹے برآمد کنندگان میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔ نئے ٹیرف 19 اگست سے نافذ ہونے کا امکان ہے
کینیڈین فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ بزنس کے سروے کے مطابق تقریباً ہر پانچ میں سے دو کینیڈین برآمد کنندگان ایسی مصنوعات امریکا بھیجتے ہیں جو نئے ٹیرف کے دائرے میں آسکتی ہیں
ان کاروباری اداروں میں سے 77 فیصد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹیرف نافذ ہونے کی صورت میں ان کی آمدنی متاثر ہوگی، جبکہ 35 فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی آمدنی کا کم از کم نصف یا اس سے بھی زیادہ حصہ کھونا پڑ سکتا ہے
کینیڈین کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے اس توقع کے تحت کام کر رہے تھے کہ کینیڈا امریکا میکسیکو تجارتی معاہدے کے تحت شرائط پوری کرنے والی کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف عائد نہیں ہوگا
رپورٹ کے مطابق بہت سے چھوٹے کاروبار ممکنہ نقصان سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی اخراجات کم کر رہے ہیں۔ ایک اور سروے میں 55 فیصد چھوٹے کاروباری اداروں نے بتایا کہ انہوں نے اخراجات میں کمی کی ہے، جبکہ 25 فیصد نے نئی بھرتیاں مؤخر کردی ہیں اور اتنے ہی کاروباروں نے صارفین کے لیے قیمتیں بڑھائی ہیں
کینیڈا کے کاروباری اداروں کی ایک بڑی تعداد امریکی مارکیٹ پر انحصار کرتی ہے۔ سروے میں 60 فیصد سے زیادہ چھوٹے کاروباروں نے امریکا پر کم از کم کسی حد تک انحصار کا اعتراف کیا، جبکہ 13 فیصد نے امریکا کے ساتھ کاروباری تعلقات کو اپنے کاروبار کے لیے بنیادی حیثیت کا حامل قرار دیا
کینیڈا کے تجارت کے وزیر ڈومینک لی بلانک اور چیف تجارتی مذاکرات کار جینس شاریٹ امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں۔ دونوں نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے بھی ملاقات کی ہے
کینیڈین حکومت کی کوشش ہے کہ 19 اگست کی ممکنہ ٹیرف ڈیڈ لائن سے قبل امریکا کے ساتھ کوئی قابل قبول تجارتی سمجھوتا طے کیا جائے۔ مذاکرات تاحال جاری ہیں۔

قومی خبریں سے مزید