پانی کی قلت کے شکار کراچی کے شہریوں پر پانی اور سیوریج کے بلوں کا مزید بوجھ

پانی کی قلت کے شکار کراچی کے شہریوں پر پانی اور سیوریج کے بلوں کا مزید بوجھ

کراچی میں پانی کی فراہمی پہلے ہی شدید مسائل کا شکار ہے، ایسے میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے گھریلو اور بڑی مقدار میں پانی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے پانی اور سیوریج کے ماہانہ نرخوں میں یکساں 7.05 فیصد اضافہ کردیا ہے
نئے نرخوں کا باضابطہ اعلان سندھ حکومت کے گزٹ میں 10 اگست کو کیا گیا۔ یہ اضافہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے اور پانی و سیوریج کے خوردہ اور بڑے صارفین دونوں پر لاگو ہوگا
نئے نظام کے تحت گھریلو صارفین کے ماہانہ پانی اور سیوریج کے چارجز مکان یا پلاٹ کے رقبے کے مطابق مقرر کیے جائیں گے، جبکہ مختلف تجارتی اداروں اور دکانوں کے لیے بھی مقررہ ماہانہ نرخ طے کیے گئے ہیں
نرخوں میں اضافے پر شہریوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، خصوصاً ان علاقوں کے رہائشیوں نے اعتراض کیا ہے جہاں پائپ لائن کے ذریعے پانی باقاعدگی سے دستیاب نہیں اور انہیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگے ٹینکر خریدنا پڑتے ہیں
گلشن اقبال کے ایک رہائشی نے بتایا کہ ان کے علاقے میں ماہانہ صرف دو مرتبہ پانی آتا ہے اور وہ بھی تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے ٹینکر بھی خریدنے پڑتے ہیں اور اب مکمل اضافہ شدہ بل بھی ادا کرنا ہوگا
ملیر کے کھوکھراپار کے ایک دکاندار نے بتایا کہ ان کے علاقے میں پائپ لائن کے ذریعے پانی دستیاب ہی نہیں، اس کے باوجود مقررہ بل بھیجا جاتا ہے۔ ان کے مطابق نئے اضافے سے چھوٹے تاجروں پر مزید مالی بوجھ پڑے گا
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ نرخوں میں اضافے کا مقصد ادارے کے مالی وسائل مضبوط کرنا اور پانی کی فراہمی، سیوریج نظام کی دیکھ بھال، بحالی اور دیگر شہری خدمات کے لیے مستقل آمدنی پیدا کرنا ہے
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے چار ماہ کے دوران کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے 8 ارب 14 کروڑ روپے وصول کیے جبکہ اس کی اوسط ماہانہ آمدنی 2 ارب 26 کروڑ روپے سے تجاوز کرچکی ہے
حکام کے مطابق اضافی آمدنی کے بغیر شہری خدمات مزید متاثر ہوسکتی ہیں۔ نرخوں میں تبدیلی عالمی بینک کے تعاون سے جاری کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ منصوبے کے تحت ادارے کی ذمہ داریوں سے بھی منسلک ہے۔

قومی خبریں سے مزید