راولپنڈی فائرنگ کے ملزم کا پوسٹ مارٹم، موبائل فون کی بھی تفتیش شروع
راولپنڈی میں سکیورٹی اہلکاروں پر مبینہ فائرنگ کے بعد مارے جانے والے 32 سالہ ملزم محمد حسین کا پوسٹ مارٹم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کی لاش منگل کی رات اسپتال منتقل کی گئی تھی، تاہم اس کے لواحقین میں سے کسی نے لاش وصول کرنے کے لیے رابطہ نہیں کیا
پولیس کے مطابق محمد حسین کا تعلق خیبر ضلع سے تھا۔ ملزم کے قبضے سے ایک سیاسی جماعت کا جھنڈا، ٹوپی، ایک ہتھیار اور موبائل فون برآمد ہوا تھا۔ موبائل فون کو بھی تحقیقات کا حصہ بنا کر اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے سے متعلق مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں
واقعے کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تحریک انصاف کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی قیادت اپنے کارکنوں کی مبینہ شدت پسندی سے لاتعلقی اختیار نہیں کر سکتی
طلال چوہدری نے کہا کہ 11 اگست کا واقعہ نفرت، تقسیم اور تشدد کی سیاست کے خلاف ایک بڑا سبق ہونا چاہیے۔ انہوں نے تحریک انصاف کی جانب سے ملزم سے لاتعلقی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو کس نے تربیت دی اور انہیں یہ نظریات کس نے فراہم کیے
وزیر مملکت نے ملزم کے ذہنی طور پر غیر مستحکم ہونے کے ممکنہ دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ایسا تھا تو اسے تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہروں میں بار بار صف اول میں کیوں لایا جاتا رہا
انہوں نے واقعے کو ماضی کے سیاسی تصادم، 9 مئی کے واقعات اور 26 نومبر کے احتجاج سے جوڑتے ہوئے خبردار کیا کہ سیاسی تشدد میں مزید اضافہ ملک کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات منصفانہ اور آزادانہ انداز میں کی جائیں گی
حکام کے مطابق ملزم سے برآمد ہونے والے موبائل فون اور دیگر شواہد کی جانچ جاری ہے، جس سے فائرنگ کے واقعے کے محرکات اور ملزم کے ممکنہ روابط کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے





