ایئر انڈیا کا چرسی پائلٹ: دلی جانے والی فلائٹ گرتے گرتے بچی ، منشیات ٹیسٹ بھی مثبت ، بھارت میں نیا ہنگامہ
ایئر انڈیا کی فوکٹ سے نئی دہلی جانے والی پرواز میں پیش آنے والے خوفناک واقعے نے بھارت میں فضائی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں،پرواز کے پائلٹ ان کمانڈ کے تصدیقی منشیات ٹیسٹ میں چرس کے استعمال کا نتیجہ مثبت آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات مزید گہری ہو گئی ہیں،رائٹرز کے مطابق پائلٹ کے دوسرے اور تصدیقی ٹیسٹ میں بھی چرس کا نتیجہ مثبت آیا ہے
یہ وہی پرواز تھی جو گزشتہ ہفتے فوکٹ سے دہلی آ رہی تھی اور دوران پرواز اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے گر گئی،طیارے میں 137 مسافر اور 8 عملے کے ارکان سوار تھے،واقعے کے نتیجے میں متعدد مسافر اور عملے کے ارکان زخمی ہوئے، تاہم طیارہ بحفاظت دہلی میں اتر گیا
اب ایک مسافر نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا ہے کہ واقعے کے بعد جب طیارہ دہلی پہنچا تو پائلٹ کی حالت معمول کے مطابق دکھائی نہیں دے رہی تھی، مسافر کے بقول پائلٹ کی آنکھیں سرخ تھیں اور وہ نشے میں دکھائی دے رہا تھا،مسافر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دہلی پہنچنے کے بعد پائلٹ نے مسافروں سے کہا کہ وہ واقعے کی ویڈیو ریکارڈ نہ کریں
اس معاملے کی سنگینی صرف اس بات میں نہیں کہ پائلٹ کے جسم میں منشیات کے آثار پائے گئے، بلکہ اس وقت بھی اہم سوال اٹھتے ہیں جب طیارہ دوران پرواز اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آیا،بھارتی ذرائع کے مطابق واقعے کے دوران معاون پائلٹ نے طیارے کا کنٹرول سنبھالا اور پرواز کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا
بھارتی میڈیا کی مزید رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ پرواز کے دوران اپنی نشست سے کھڑا ہو کر پیچھے کی جانب جھکتا ہوا بھی دیکھا گیا، جس کے بعد عملے نے مداخلت کی،معاون پائلٹ نے صورت حال سنبھالی اور طیارے کو دہلی تک پہنچایا
واقعے کے بعد بھارتی شہری ہوا بازی کی وزارت نے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کا اعلان کیا ہے جبکہ شہری ہوا بازی کے نگران ادارے ڈی جی سی اے سے موجودہ منشیات ٹیسٹنگ کے ضوابط کا جائزہ لینے اور ضرورت پڑنے پر انہیں مزید سخت بنانے کو کہا گیا ہے،ہوائی حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے نے بھی معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں
ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو کی وزارت شہری ہوا بازی اور ڈی جی سی اے کے اعلیٰ حکام سے ملاقات بھی ہوئی ہے، جہاں اس واقعے اور تحقیقات کی پیش رفت پر بات ہوئی،ایئر انڈیا نے تحقیقات میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے
اس واقعے میں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے،مثبت منشیات ٹیسٹ یہ ثابت نہیں کرتا کہ پائلٹ عین پرواز کے وقت نشے کی حالت میں تھا، ٹیسٹ جسم میں کسی مادے کی موجودگی ظاہر کر سکتا ہے، جبکہ یہ الگ سوال ہے کہ وہ مادہ کب استعمال کیا گیا اور آیا اس کا پائلٹ پرواز کے دوران فیصلہ سازی یا جسمانی صلاحیت پر اثر تھا یا نہیں،اسی لیے حتمی ذمہ داری اور واقعے کی وجہ کا تعین تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا
لیکن اگر تحقیقات یہ ثابت کر دیتی ہیں کہ پائلٹ نے واقعی کسی نشہ آور مادے کے زیر اثر طیارہ اڑایا، تو یہ بھارت کی شہری ہوا بازی کے لیے ایک انتہائی سنگین حفاظتی ناکامی ہوگی
کیونکہ یہاں معاملہ کسی عام ملازمت کا نہیں،ایک پائلٹ کے ہاتھ میں صرف اپنی زندگی نہیں بلکہ طیارے میں موجود درجنوں یا سیکڑوں انسانوں کی زندگیاں ہوتی ہیں
اور اس واقعے کا سب سے خوفناک پہلو شاید یہی ہے کہ ایک طرف طیارہ اچانک سینکڑوں فٹ نیچے آ رہا تھا، دوسری طرف کاک پٹ میں موجود پائلٹ کے بارے میں اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا وہ اس وقت مکمل طور پر ہوش و حواس میں بھی تھا یا نہیں
اگرچہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، لیکن معاون پائلٹ کی بروقت مداخلت نے ایک ممکنہ فضائی سانحے کو ٹالنے میں کیا کردار ادا کیا، یہ سوال بھی اب اس تحقیقات کے مرکزی حصوں میں شامل ہو سکتا ہے





