Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان ڈے پریڈ زوال کے آخری مرحلے میں، قیادت اور قبضے کی جنگ عدالت پہنچ گئی ؟

پاکستان ڈے پریڈ زوال کے آخری مرحلے میں، قیادت اور قبضے کی جنگ عدالت پہنچ گئی ؟

نیویارک: کبھی مین ہٹن کی میڈیسن ایونیو پر پاکستانی شناخت، ثقافت اور اجتماعی قوت کا سب سے بڑا عوامی مظاہرہ سمجھی جانے والی نیویارک کی پاکستان ڈے پریڈ اب اپنے وجود کے ایک انتہائی نازک مرحلے میں پہنچ گئی ہے، بتایا جارہا ہے 1985 میں شروع ہونے والی اس پریڈ کے منتظمین آج ایک دوسرے کے خلاف عدالتوں میں ہیں، قیادت متنازع ہے، تیاریوں کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں اور 23 اگست کو ہونے والی رواں سال کی تقریب سے چند دن پہلے یہ بھی واضح نہیں کہ روایتی معنوں میں پریڈ کس شکل میں منعقد ہو سکے گی
یہ وہی تقریب ہے جس نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک نیویارک میں پاکستانی امریکی کمیونٹی کو ایک مشترکہ شناخت کے تحت اکٹھا کیا،ابتدا میں یہ پریڈ ایک چھوٹی مگر نسبتاً منظم پاکستانی کمیونٹی کی نمائندگی کرتی تھی،نیویارک کے ریکارڈ کے مطابق 1985 میں اسے شمالی امریکا کی تاریخ کی پہلی پاکستان ڈے پریڈ قرار دیا گیا تھا،اس سے ایک ہفتہ قبل نیویارک میں بھارتی یوم آزادی کی پریڈ بھی منعقد ہوئی تھی، جسے اس وقت امریکی سرزمین پر اپنی نوعیت کی سب سے بڑی بھارتی پریڈ قرار دیا گیا تھا،یوں پاکستانی پریڈ کے قیام میں ایک واضح قومی اور کمیونٹی شناخت کا عنصر بھی موجود تھا
ابتدائی برسوں میں پاکستان ڈے پریڈ محض ایک مارچ نہیں تھی،میڈیسن ایونیو پر فلوٹس، بینڈ، قومی لباس میں ملبوس خاندان، پاکستانی کھانے، موسیقی اور بعد میں میلے نے اسے نیویارک کی پاکستانی کمیونٹی کا سالانہ اجتماعی اجتماع بنا دیا،وقت کے ساتھ اس کا راستہ میڈیسن ایونیو پر 38ویں اسٹریٹ کے آس پاس سے شروع ہو کر 23ویں یا اس کے قریب کی سڑکوں تک رہا ہے،نیویارک کے سرکاری ریکارڈ میں 1997 کی 13ویں پاکستان آزادی پریڈ کے لیے میڈیسن ایونیو اور 41ویں اسٹریٹ سے آغاز، فلوٹس اور بینڈز کا ذکر موجود ہے، جبکہ بعد کے سرکاری شہری ریکارڈ میں پریڈ کا راستہ 38ویں سے 23ویں اسٹریٹ تک درج ہے
یہی وہ دور تھا جب پاکستانی امریکن کمیونٹی آج کے مقابلے میں بہت چھوٹی تھی، لیکن اس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، کاروباری افراد، اساتذہ اور دوسرے تعلیم یافتہ لوگ بھی نمایاں طور پر شریک تھے،کمیونٹی کے بزرگوں کے مطابق اس وقت پریڈ کو پاکستان کی اس وقت کی سیاسی اور ریاستی طاقت کے ساتھ تعلق رکھنے والے بعض حلقوں کی حمایت بھی حاصل تھی،تاہم اس حمایت سے قطع نظر پریڈ کی اصل طاقت یہ تھی کہ اس میں کمیونٹی کے مختلف طبقے شریک ہوتے تھے
وقت کے ساتھ صورت حال بدلتی گئی،پاکستانی امریکن آبادی میں اضافہ ہوا، مگر پریڈ کے اندر نمائندگی اور تنظیمی ڈھانچے کے بارے میں اختلافات بھی بڑھتے گئے،تعمیرات کے شعبے سے وابستہ کاروباری افراد اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے پریڈ کی مالی اور تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالے رکھیں ،اس میں بذات خود کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ تعمیراتی کارکن ہو، دکان پر کام کرنے والا ہو، ڈاکٹر ہو یا انجینئر، ہر شخص کمیونٹی کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتا ہے،اصل مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ کیا ایک ایسی پریڈ جو پوری پاکستانی امریکی کمیونٹی کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے، اس کی قیادت اور فیصلہ سازی میں بھی پوری کمیونٹی کے تمام طبقات کی مناسب نمائندگی موجود ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پاکستانی امریکی کمیونٹی آج صرف چند پیشوں تک محدود نہیں،اس میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر، انجینئر، وکلا، سائنس دان، ٹیکنالوجی کے ماہرین، کاروباری افراد، سرکاری ملازمین اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں،اگر کسی اجتماعی ادارے پر ایک محدود گروہ کی بالادستی قائم ہو جائے تو وقت کے ساتھ باقی طبقات کی دلچسپی کم ہونا فطری امر ہے
پریڈ کی تاریخ میں اس کے برعکس وقت بھی آیا جب درجنوں فلوٹس میڈیسن ایونیو پر چلتے تھے۔ 2008 کی ایک رپورٹ میں 16 سجے ہوئے فلوٹس کا ذکر ملتا ہے، جبکہ 2017 میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی پریڈ میں بڑی تعداد میں شرکا، رنگا رنگ فلوٹس، قومی گیتوں اور کھانے کے اسٹالز کو نمایاں کیا تھا۔ 2016 کی پریڈ میں 12 فلوٹس کا ذکر بھی میڈیا میں ملتا ہے،
لیکن گزشتہ برسوں میں اس تقریب کی رونق میں نمایاں کمی آنے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جو مناسب حد تک درست بھی تھے ، کمیونٹی کے بعض افراد کے مطابق کبھی جس پریڈ میں ہزاروں خاندان شریک ہوتے تھے، وہاں اب شرکت چند سو افراد تک محدود ہوچکی تھی ، گزشتہ سال کے بارے میں پاکستانی امریکی ذرائع اور پریڈ سے وابستہ بعض افراد کا دعویٰ ہے کہ مجموعی تعداد تقریباً 400 سے 500 رہی اور صرف چار فلوٹس نمایاں تھے، جن میں ایک پاکستان تحریک انصاف سے متعلق اور تین تعمیراتی کمپنیوں کے تھے،تاہم 2025 کی پریڈ کی بعض رپورٹوں میں بھی تقریب کے محدود پیمانے کے باوجود اسے 41ویں سالانہ پریڈ قرار دیا گیا اور میڈیسن ایونیو سے 38ویں سے 27ویں اسٹریٹ تک مارچ اور بعد ازاں میلے کا ذکر کیا گیا
اس کے مقابلے میں نیویارک کی بھارت ڈے پریڈ نے اپنے آپ کو ایک وسیع، کارپوریٹ اور کثیرالجہتی کمیونٹی تقریب میں تبدیل کر لیا ہے،بھارتی پریڈ 1981 سے جاری ہے اور اس میں بڑی تعداد میں تنظیمیں، کاروباری ادارے، ثقافتی گروپ، فنکار اور اسپانسر شریک ہوتے ہیں،حالیہ برسوں کی رپورٹوں میں اس کے راستے پر ہزاروں افراد کی موجودگی اور متعدد ثقافتی گروپوں اور فلوٹس کا ذکر ملتا ہے
پاکستانی پریڈ کے موجودہ بحران کا سب سے نمایاں پہلو اب اس کی قیادت پر جاری تنازع ہے
کمیونٹی کے ایک گروپ کے مطابق منیر لودھی تقریباً تین دہائیوں سے پریڈ کی تنظیم میں کسی نہ کسی حیثیت سے موجود رہے ہیں اور گزشتہ برس بھی صدر تھے،گزشتہ سال لودھی نے خود ایک ویڈیو پیغام میں صدارت اور ایگزیکٹو باڈی کے ٹرسٹی کے عہدے سے دستبردار ہونے اور نئی قیادت کو موقع دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس سال وہ دوبارہ تنظیمی تنازع کے مرکز میں ہیں
دوسرا گروپ، جسے قاسم مجید گروپ کہا جاتا ہے، دعویٰ کرتا ہے کہ 20 فروری 2026 کو باقاعدہ انتخابات ہوئے تھے۔ اس گروپ کے مطابق اس انتخاب میں 13 ٹرسٹیوں میں سے 10 شریک ہوئے، ووٹنگ ہوئی، شناختی دستاویزات اور دستخط موجود ہیں اور انتخاب کے بعد نئی ایگزیکٹو باڈی تشکیل دی گئی جس میں ان تین ٹرسٹیوں کو شامل نہیں کیا گیا جو اجلاس میں موجود نہیں تھے،ان میں منیر لودھی کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔

مخالف گروپ اس دعوے کو مسترد کرتا ہے،اس کا کہنا ہے کہ 20 فروری کو کوئی انتخاب نہیں ہوا بلکہ صرف ایک اجلاس ہوا تھا جس میں شرکا نے حاضری پر دستخط کیے تھے،یوں اصل تنازعہ صرف یہ نہیں کہ پریڈ کون چلائے گا بلکہ یہ بھی ہے کہ تنظیم کی موجودہ قانونی حیثیت اور اس کی ایگزیکٹو باڈی کا انتخاب کس طریقے سے ہوا
اس تنازع نے بالآخر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے،دونوں دھڑے ایک دوسرے کے خلاف قانونی کارروائی کر چکے ہیں اور عدالتی کاغذات جمع ہونے کی بات کی جا رہی ہے، تاہم اس وقت تک کسی عدالتی فیصلے یا ایسی سماعت کی تاریخ کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی جس سے یہ معلوم ہو کہ عدالت نے انتظامی اختیار کس فریق کو دیا ہے
ادھر 23 اگست کی مقررہ تاریخ تیزی سے قریب آ رہی ہے،جولائی میں پریڈ کمیٹی کی ایک میٹنگ کی رپورٹ میں منیر لودھی، ڈاکٹر حق، خواڑ باگ، اسد چوہدری، احمد جان اور دیگر افراد کی شرکت اور رواں سال پریڈ کو پہلے سے بہتر انداز میں منعقد کرنے کے عزم کا اعلان کیا گیا تھااسی رپورٹ میں نئے ٹرسٹیوں کی شمولیت کا بھی ذکر تھا
لیکن موجودہ اختلافات کے باعث کمیونٹی کے بعض افراد کا کہنا ہے کہ نہ وہ وسیع تشہیری مہم دکھائی دے رہی ہے جو کبھی پریڈ کا حصہ ہوتی تھی، نہ بڑی تعداد میں فلوٹس کی تیاری نظر آ رہی ہے اور نہ ہی میلے کے لیے بڑے فنکاروں کی وہ فہرست سامنے آئی ہے جو ماضی میں اس تقریب کی کشش ہوتی تھی
رواں سال کے فنکاروں کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں،بلال سعید کی شرکت کا ذکر کیا جا رہا ہے، جبکہ علی ظفر کو لانے کی کوشش کی گئی تھی،کمیونٹی ذرائع کے مطابق علی ظفر کے لیے تقریباً 40,000 ڈالر کی رقم زیر بحث تھی، اب کہا جارہا ہے علی ظفر چالیس ہزار ڈالر میں بھی آنے کو تیار نہیں کہ اسے بتادیا گیا ہے پریڈ متنازعہ ہی نہیں بلکہ کمیونٹی کی اکثریت کا سخت ناپسندیدہ ایونٹ بن چکی ہے جہاں ایک خاص گروہ کا قبضہ ہے
اس سب کے باوجود پریڈ سے وابستہ حلقے اصرار کر رہے ہیں کہ 23 اگست کو تقریب ضرور ہوگی، امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میڈیسن ایونیو پر اسٹیج اور میلہ لگایا جائے گا اور جو لوگ آئیں گے وہ تقریب میں شریک ہوں گے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ پرانی معنوں میں پاکستان ڈے پریڈ ہوگی، جس میں بڑی تعداد میں لوگ، تنظیمیں، فلوٹس اور مختلف طبقوں کی نمائندگی سڑکوں پر نظر آتی تھی؟
یہ سوال صرف ایک تقریب کے مستقبل کا نہیں بلکہ نیویارک کی پاکستانی امریکی کمیونٹی کے اجتماعی زوال کا سوال بھی بن چکا ہے
1985 میں جب یہ پریڈ شروع ہوئی تھی تو پاکستانی کمیونٹی نسبتاً چھوٹی تھی، مگر اس کے پاس ایک اجتماعی جذبہ تھا،آج کمیونٹی کئی گنا بڑی ہے، اس کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ، پیشہ ور اور معاشی طور پر کامیاب افراد موجود ہیں، لیکن اس کی سب سے پرانی اور نمایاں قومی تقریب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے
مسئلہ اس بات کا نہیں کہ پریڈ میں تعمیراتی کمپنی کا فلوٹ کیوں ہے یا کسی مزدور نے اس کی تنظیم میں حصہ کیوں لیا،مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ پریڈ پوری پاکستانی امریکی کمیونٹی کی نمائندگی کرتی ہے یا چند افراد اور گروہوں کی تنظیم بن کر رہ گئی ہے؟
چار دہائیوں پہلے میڈیسن ایونیو پر جو پریڈ پاکستانی کمیونٹی کو اپنی اجتماعی قوت دکھانے کا موقع دیتی تھی، آج اسی میڈیسن ایونیو پر اس کے مستقبل کا سوال کھڑا ہے، اگر موجودہ قیادت کا تنازع، قانونی جنگ اور اندرونی تقسیم ختم نہ ہوئی تو ممکن ہے 23 اگست کی تقریب صرف ایک اسٹیج اور چند درجن افراد کا اجتماع رہ جائے، جبکہ وہ پریڈ جس نے کبھی نیویارک میں پاکستانی شناخت کو ہزاروں لوگوں کے ساتھ سڑک پر زندہ کیا تھا، تاریخ کا حصہ بن جائے، یہی بالادستی ، انا ، میں ناں مانوں کی ضد جنگ نے پاکستانی معاشرے کو پاکستان سے لیکر پاکستانی دنیا میں جہاں جہاں آباد ہیں بکھیر کر رکھ دیا ہے مکمل منتشر کررکھا ہے ، یہاں افسوس دکھ اور صدمے کی بات یہ بھی ہے اسی پریڈ کمیٹی میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے وہ مقامی رہنما بھی شامل ہیں جنہیں پاکستان میں مکمل جمہوریت چاہیئے اور جب کبھی انکی سیاسی پارٹی پر ملک میں مشکل وقت آئے اور حکومت سے نکال دیا جائے تو یہی رہنما نیویارک کی سڑکوں پر پاکستان میں جمہوریت کی بحالی انسانی حقوق کی بالادستی کے مطالبات لیکر احتجاجی مظاہرے کرتے دیکھے جاتے ہیں ، پریڈ کے معاملات سے واقفان حال کا دعویٰ ہے پاکستان مسلم لیگ ن یو ایس اے کا رہنما محمد احمد جان جو گزشتہ تیس پنتیس سال سے پریڈ کے ہر دور کے قبضہ گروپ کا حصہ رہا ہے اور جس کی درپردہ حمایت مقامی مسلم کی پوری قیادت کرتی رہی ہے بلکہ وقتا فوقتا اسی سیاسی گروہ کے دیگر اراکین بھی پریڈ پر قبضے کو مظبوط کرنے کے لیے شامل ہوتے رہے ہیں جبکہ اب اس گندے کھیل میں پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما اور کارکن بھی شامل نظر آتے ہیں ، پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما مرزا خاور بیگ جو گزشتہ سال پاکستان میں اپنے بھائ کی گرفتاری اور رہائ کے بعد پاکستان تحریک انصاف سے دوری اختیار کرچکے ہیں، پریڈ کمیٹی کے قبضہ گروہ کا ایک اہم حصہ ہیں ، جنہوں نے گزشتہ سال پاکستان میں اپنے بھائ جو سیالکوٹ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر صوبائ اسمبلی کا انتخاب بھی لڑ چکے ہیں کی گرفتاری پر یہاں نیویارک میں مبینہ طور پر پریس کانفرنس طلب کرکے اپنے بھائ کی گرفتاری کے حقائق کے ساتھ بھائ پر اور خود پر پڑنے والے دباؤ کی تفصیلات بتانے کا ارادہ کیا تاہم جب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مذید دباؤ پڑا اور شٹ اپ کال دی گئی تو پریس کانفرنس ملتوی ہی نہیں کردی مکمل کال آف دیکر ختم کردی اور بعد ازاں یہاں نیویارک میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر تنظیم اے پی پیک جوائن کرکے اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیا کہ وہ اچھے بچے بن گئے ہیں ، یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے کنسٹرکشن بزنس سے وابستہ اور پاکستان ڈے پریڈ کمیٹی کے قبضہ گروپ کے رکن مرزا خاور بیگ کو امریکن پاکستانی میڈیا اور کمیونٹی کے حلقے ابھی تک پاکستان تحریک انصاف کا رہنما قرار دیتے ہیں

قومی خبریں سے مزید