خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز پر ایران کے مستقل کنٹرول کو نئی حقیقت ماننا شروع کر دیا، جنگ سے بچنے کے لیے مشکل سمجھوتے پر آمادہ

خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز پر ایران کے مستقل کنٹرول کو نئی حقیقت ماننا شروع کر دیا، جنگ سے بچنے کے لیے مشکل سمجھوتے پر آمادہ

دبئی: خلیج فارس کے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول اب ایک عارضی صورت حال نہیں بلکہ خطے کی نئی مستقل حقیقت بن سکتا ہے،خلیجی ممالک اس صورتحال سے خوش نہیں، کیونکہ اس سے ان کی تیل اور گیس کی برآمدات اور عالمی توانائی کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہنے کا خدشہ ہے، لیکن ان کے سامنے اس وقت اس سے بہتر راستہ بھی دکھائی نہیں دے رہا
اصل مسئلہ یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں ایک ایسے انتخاب کے سامنے کھڑی ہیں جس میں دونوں راستے نقصان دہ ہیں،ایک طرف آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑھتا ہوا کنٹرول ہے، جس کے باعث دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک کی آزادی اور معمول کی سرگرمیاں محدود ہوسکتی ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے، جس کے نتائج خلیجی ممالک کے لیے کہیں زیادہ تباہ کن ہوسکتے ہیں
حالیہ جنگ نے خطے کے طاقت کے توازن کو بھی تبدیل کردیا ہے،ایران اب پہلے سے زیادہ جارحانہ اور اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کے لیے زیادہ تیار دکھائی دے رہا ہے،خلیجی حکومتوں کو خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کے ساتھ براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کیا تو اس کا جواب صرف سمندری گزرگاہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خلیجی ممالک کے تیل کے بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں اور دیگر اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے،
آبنائے ہرمز کی اہمیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی مختصر مگر انتہائی حساس سمندری راستے سے گزرتا ہے،خلیج فارس سے نکلنے والا تیل اور مائع قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے بڑی حد تک اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں،اگر یہ گزرگاہ طویل مدت تک محدود رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایشیا، یورپ اور امریکا سمیت پوری عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں،
اسی صورتحال میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سامنے آنے والا ممکنہ سمجھوتہ خلیجی ریاستوں کے لیے ایک تلخ انتخاب بن گیا ہے،توانائی پیدا کرنے والے ممالک اس انتظام کو پسند نہیں کرتے کیونکہ اس میں ایران کو ایسی پوزیشن مل سکتی ہے جس سے وہ مستقبل میں بھی آبنائے کی سرگرمیوں پر غیر معمولی اثر و رسوخ برقرار رکھ سکے گا،تاہم خلیجی حکام کے لیے یہ سمجھوتہ جنگ کے مقابلے میں کم نقصان دہ راستہ محسوس ہو رہا ہے،
یہ صورتحال خطے کے لیے ایک بنیادی تبدیلی کی علامت ہے،ماضی میں خلیجی ممالک کے لیے بنیادی سوال یہ تھا کہ آبنائے ہرمز کو کسی بھی صورت کھلا کیسے رکھا جائے،اب سوال یہ بنتا جا رہا ہے کہ اگر ایران اس گزرگاہ پر مستقل اثر و رسوخ قائم کرچکا ہے تو اس نئی حقیقت کے ساتھ کیسے زندہ رہا جائے،
اس تبدیلی کے پیچھے صرف فوجی طاقت نہیں بلکہ جنگ کے ممکنہ معاشی نتائج بھی ہیں،خلیجی ممالک خود عالمی توانائی کی منڈی کے اہم ترین مراکز میں شامل ہیں،ان کی معیشتیں تیل اور گیس کی برآمدات سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، اس لیے وہ ایسی جنگ نہیں چاہتے جو ان کی برآمدی تنصیبات کو براہ راست خطرے میں ڈال دے یا سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں کے اعتماد کو تباہ کردے
ایران کے لیے بھی آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ ایک انتہائی طاقتور جغرافیائی اور سیاسی ہتھیار ہے،اگر تہران آبنائے کی آمد و رفت پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے تو وہ عالمی توانائی کی قیمتوں، خلیجی معیشتوں اور مغربی ممالک کی پالیسیوں پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت بھی برقرار رکھتا ہے
یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک کے لیے موجودہ صورتحال ایک عجیب تضاد پیدا کر رہی ہے،وہ ایران کو اتنی طاقت دینا نہیں چاہتے کہ وہ آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر اپنے سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنا سکے، لیکن وہ ایران کے خلاف ایسی جنگ بھی نہیں چاہتے جو اس سے کہیں بڑے خطرات پیدا کرسکتی ہے
اس نئی صورتحال میں خلیجی ریاستوں کی ترجیح اب شاید ایران کو مکمل طور پر پیچھے دھکیلنے کے بجائے خطرات کو محدود کرنا، تیل کی متبادل ترسیلی گزرگاہوں کو زیادہ استعمال کرنا، عالمی منڈیوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنا اور ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچنا ہوگی
لیکن اس حکمت عملی کی قیمت بھی کم نہیں ہوگی،اگر ایران آبنائے ہرمز پر طویل مدت تک اثر و رسوخ برقرار رکھتا ہے تو عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی مستقل عنصر بن سکتی ہے،تیل اور گیس کی قیمتوں میں خطرے کی اضافی قیمت شامل ہوگی، بیمہ اور بحری نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور ایشیائی توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو متبادل ذرائع پر مزید انحصار کرنا پڑ سکتا ہے
اس پورے بحران کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ جنگ نے صرف ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان طاقت کا توازن نہیں بدلا بلکہ خلیج فارس کی سلامتی کا پورا تصور تبدیل کردیا ہے،خلیجی ممالک اب ایسے ایران کا سامنا کر رہے ہیں جو زیادہ طاقتور، زیادہ جارحانہ اور اپنی جغرافیائی پوزیشن کو عالمی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کے لیے زیادہ تیار ہے
چنانچہ آبنائے ہرمز کے بارے میں اب جو سمجھوتہ زیر غور ہے، وہ خلیجی ریاستوں کی نظر میں کوئی مثالی حل نہیں بلکہ ایک کم نقصان دہ راستہ ہے،انہیں معلوم ہے کہ ایران کو اس گزرگاہ پر مستقل اثر و رسوخ دینا ان کے معاشی مفادات کے خلاف ہے، مگر انہیں یہ خوف بھی ہے کہ اسے چیلنج کرنے کی قیمت ایک نئی جنگ ہوسکتی ہے
یوں دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں سے ایک کے مستقبل کا سوال اب صرف سمندری آمد و رفت کا مسئلہ نہیں رہا،یہ ایران کی علاقائی طاقت، خلیجی ریاستوں کی سلامتی، عالمی تیل کی قیمتوں اور دنیا کی توانائی کی سلامتی کے درمیان ایک ایسا پیچیدہ تنازع بن چکا ہے جس کا فوری اور مکمل حل کسی فریق کے پاس دکھائی نہیں دیتا

قومی خبریں سے مزید