شام اور روس میں فوجی اڈوں کے مستقبل پر معاہدہ، دونوں اڈے مشترکہ تربیتی مراکز میں تبدیل ہوں گے
دمشق: شام اور روس نے ملک میں موجود روسی فوجی اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ کرلیا ہے۔ معاہدے کے تحت حمیمیم فضائی اڈے اور طرطوس بحری اڈے کو مشترکہ تربیت اور استعداد بڑھانے کے مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔
شامی سرکاری ذرائع کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت تقریباً ڈیڑھ سال جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد طے پائی ہے۔ معاہدے کے تحت اس عمل کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔
معاہدے کے عبوری مرحلے کے دوران دونوں اڈوں میں موجود شہری تنصیبات دمشق کے حوالے کی جائیں گی، جبکہ فوجی تنصیبات کو نئے انتظام کے تحت مشترکہ تربیتی اور صلاحیت میں اضافے کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
روس نے تاحال اس معاہدے پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے معاہدے میں شامل تنصیبات کا جائزہ لینے کے لیے دونوں مقامات کا دورہ بھی کیا۔ حکام کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے باہمی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے تعلقات کے لیے ایک نیا انتظام قائم کرنا ہے۔
دوسری جانب شام کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے لطاکیہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنے کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔ یہ ہوائی اڈہ حمیمیم اڈے سے متصل ہے اور ماضی میں روسی موجودگی کے باعث اس کی سرگرمیاں متاثر رہی ہیں۔
شامی حکام کے مطابق ہوائی اڈے کی تنصیبات اور نظام کا تکنیکی جائزہ شروع کردیا گیا ہے تاکہ اسے بحال کرکے قومی شہری ہوا بازی کے نظام میں دوبارہ شامل کیا جاسکے۔
روس اور شام کے درمیان یہ معاہدہ سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود شام کی نئی قیادت نے روس کے ساتھ تعاون برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ صدر احمد الشرع روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے دو مرتبہ ملاقات بھی کرچکے ہیں





