امریکہ میں برقی گاڑیوں کا ابتدائی سنہری دور ختم ، صارفین کے سامنے اب مہنگی گاڑی یا ہائبرڈ کا انتخاب
امریکہ میں برقی گاڑیوں کا وہ ابتدائی دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے جب حکومتی مراعات اور کمپنیوں کی بھاری رعایتوں نے صارفین کے لیے برقی گاڑی خریدنا یا لیز پر لینا نسبتاً سستا بنا دیا تھا،اب ہزاروں ایسے صارفین جنہوں نے چند سال پہلے برقی گاڑی اختیار کی تھی اپنی لیز ختم ہونے کے بعد دوبارہ گاڑی لینے کے مرحلے میں پہنچ رہے ہیں اور انہیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ قیمت اور کم رعایتوں کا سامنا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 2024 میں مارک بلاک اور ان کی اہلیہ نے ہنڈائی آئیونک 6 تقریباً 340 ڈالر ماہانہ پر لیز پر لی تھی،گاڑی انہیں پسند آئی اور گھر میں چارجر بھی نصب ہوگیا،لیکن لیز ختم ہونے کے بعد اسی طرح کی نئی برقی گاڑی کے لیے قیمتیں اتنی بڑھ چکی تھیں کہ دونوں نے اس مرتبہ ہونڈا سیوک ہائبرڈ خریدنے کا فیصلہ کیا
یہ رجحان اب امریکہ کے دوسرے صارفین میں بھی نظر آرہا ہے،وفاقی حکومت کی 7500 ڈالر تک کی ٹیکس رعایت ختم ہونے اور کمپنیوں کی جانب سے بڑی لیز رعایتیں کم ہونے کے بعد برقی گاڑیوں کی قیمت کا فائدہ کم ہوگیا ہے،اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں امریکہ میں نئی برقی گاڑیوں کی فروخت اور لیز گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20.5 فیصد کم رہی
ماہانہ لیز ادائیگی میں بھی نمایاں فرق آیا ہے،جولائی 2025 میں نئی برقی گاڑی کی اوسط ماہانہ لیز ادائیگی 538 ڈالر تھی جبکہ جون 2026 میں یہ بڑھ کر 707 ڈالر ہوگئی،اسی عرصے میں غیر برقی گاڑیوں کی اوسط ماہانہ لیز ادائیگی تقریباً 607 ڈالر رہی،اس فرق نے بہت سے صارفین کو دوبارہ ہائبرڈ یا پٹرول گاڑی کی طرف دیکھنے پر مجبور کردیا ہے
اس کے باوجود برقی گاڑیوں کے سابق صارفین کی بڑی تعداد ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہونا چاہتی،کچھ لوگ استعمال شدہ برقی گاڑیاں خرید رہے ہیں کیونکہ ان کی قیمت نئی گاڑیوں کے مقابلے میں کافی کم ہے،بعض صارفین مہنگی نئی برقی گاڑی خریدنے کے بجائے اپنی موجودہ گاڑی رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں
ہائبرڈ گاڑیاں اس تبدیلی کی سب سے بڑی فائدہ اٹھانے والی ٹیکنالوجی بن رہی ہیں،کیلیفورنیا میں 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران نئی گاڑیوں کی فروخت میں ہائبرڈ کا حصہ 22.1 فیصد تک پہنچ گیا ،جبکہ مکمل برقی گاڑیوں کا حصہ 15.9 فیصد رہا،ٹویوٹا سمیت کئی بڑی کمپنیوں نے بھی ہائبرڈ ماڈلز پر زیادہ توجہ دینا شروع کردی ہے
امریکی برقی گاڑیوں کی مارکیٹ کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے،جب حکومت کی بڑی مراعات اور کمپنیوں کی غیر معمولی رعایتیں موجود نہ ہوں تو کیا عام صارف اپنی جیب سے زیادہ رقم دے کر بھی برقی گاڑی خریدے گا؟
فی الحال صورتحال یہ بتا رہی ہے کہ بہت سے امریکی صارفین برقی گاڑی کی ٹیکنالوجی کو مسترد نہیں کر رہے بلکہ اس کی قیمت پر سوال اٹھا رہے ہیں،اگر گاڑی ساز کمپنیاں زیادہ سستی اور متنوع برقی گاڑیاں پیش نہیں کرتیں تو سابق برقی گاڑی مالکان کا ایک بڑا حصہ ہائبرڈ یا پٹرول گاڑیوں کی طرف واپس جاسکتا ہے
یوں امریکہ میں برقی گاڑیوں کا ابتدائی سنہری دور ختم ہونے کے بعد اب اصل مقابلہ شروع ہوگیا ہے،مستقبل میں برقی گاڑی کی کامیابی کا انحصار حکومتی رعایتوں سے زیادہ اس بات پر ہوگا کہ کمپنیاں ایسی گاڑی کتنی مناسب قیمت پر فراہم کرتی ہیں جسے عام امریکی صارف بغیر کسی خصوصی مالی ترغیب کے بھی خریدنے پر آمادہ ہو





