ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے لاہور میٹرو بس سروس بحران کا شکار، 11 اگست سے آپریشن معطل ہونے کا خدشہ

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے لاہور میٹرو بس سروس بحران کا شکار، 11 اگست سے آپریشن معطل ہونے کا خدشہ

لاہور: لاہور میٹرو بس سروس چلانے والی نجی کمپنی نے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ساتھ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور دیگر معاملات پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 11 اگست سے بس سروس معطل کرنے کا حتمی نوٹس دے دیا ہے۔
نجی کمپنی کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی ڈیزل کی قیمتوں کے باعث اس کے مالی وسائل ختم ہو چکے ہیں اور اب اپنے خرچ پر بس سروس جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ کمپنی کے مطابق جب اس نے سروس سنبھالی تھی تو ڈیزل تقریباً 105 روپے فی لیٹر تھا، لیکن بعد میں قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ایندھن کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
کمپنی کا مؤقف ہے کہ ایندھن کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے موجود طریقہ کار کے تحت اسے مکمل رقم واپس نہیں مل رہی تھی، جس کے باعث اسے مسلسل اپنی جیب سے رقم خرچ کرنا اور قرض لینا پڑا، نتیجتاً اسے مسلسل مالی نقصان کا سامنا رہا۔
دوسری جانب پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے کمپنی کے سروس معطل کرنے کے فیصلے کو حکومت پر دباؤ ڈالنے اور ’’بلیک میلنگ‘‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ متعلقہ عدالتی حکم کے خلاف کارروائی کر رہی ہے اور معاہدے کے تحت ثالث مقرر کرنے کا اختیار بھی استعمال کرے گی۔
عدالت نے 29 جولائی کو وضاحت کی تھی کہ 8 جون 2023 کا حکم منسوخ نہیں ہوا، جس کے تحت اتھارٹی کو اپنے ذرائع سے کمپنی کو ایندھن فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم پی ایم اے کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں حکومت کی منظوری درکار ہے۔
پی ایم اے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اگر نجی کمپنی 11 اگست سے سروس سے نکل جاتی ہے تو مسافروں کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے متبادل بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور کوشش کی جائے گی کہ میٹرو بس سروس مکمل طور پر بند نہ ہو۔
لاہور میٹرو بس ملک کا پہلا جدید بڑے پیمانے کا شہری سفری منصوبہ ہے، جو گجومتہ سے شاہدرہ تک 27 کلومیٹر کے راستے پر چلتا ہے اور فروری 2013 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید