عبدالسید پر تعصب کا الزام، مگر اصل سیاسی جنگ اب نفرت کے بیانیے سے آگے بڑھ گئی

عبدالسید پر تعصب کا الزام، مگر اصل سیاسی جنگ اب نفرت کے بیانیے سے آگے بڑھ گئی

مشی گن سے سینیٹ کی دوڑ میں عبدالسید کی کامیابی نے امریکی سیاست میں صرف ایک انتخابی نتیجہ نہیں دیا بلکہ اس بحث کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کسی مسلمان اور عرب نژاد امیدوار کے خلاف سیاسی تنقید کہاں ختم ہوتی ہے اور تعصب کہاں سے شروع ہوتا ہے
ڈیموکریٹک پرائمری جیتنے کے بعد عبدالسید اب ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے مقابلے میں سینیٹ کی نشست کے لیے انتخاب لڑیں گے،ان کی کامیابی نے انہیں امریکی سینیٹ کے لیے بڑی جماعت کے امیدوار بننے والے پہلے مسلمان امریکیوں میں تاریخی مقام دے دیا ہے
لیکن ان کی انتخابی مہم کے دوران ایک مختلف جنگ بھی جاری رہی،ان کے مخالفین نے عبدالسید کے سیاسی خیالات، ان کے فلسطین اور اسرائیل سے متعلق مؤقف اور بعض متنازع شخصیات سے ان کے روابط کو بنیاد بنا کر انہیں انتہائی بائیں بازو کا امیدوار قرار دینے کی کوشش کی
خاص طور پر حسن پائیکر کے ساتھ عبدالسید کی سیاسی قربت شدید تنقید کا باعث بنی،پائیکر کے ماضی کے بعض بیانات، جن میں 9/11 کے بارے میں انتہائی متنازع تبصرہ بھی شامل ہے، نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی اعتراضات پیدا کیے،عبدالسید نے اس تنقید کے باوجود پائیکر سے دوری اختیار نہیں کی اور اسے ’’منسوخی کی سیاست‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے سیاسی اتحاد کو برقرار رکھا
دوسری جانب عبدالسید کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مہم کا ایک حصہ ان کی پالیسیوں پر تنقید نہیں بلکہ ان کی مسلمان اور عرب شناخت کو سیاسی ہتھیار بنانے کی کوشش ہے،ریپبلکن کی جانب سے جاری بعض انتخابی مواد میں ان کا پورا نام نمایاں کرنے اور انہیں دہشت گردی سے جوڑنے والے اشاروں نے اس بحث کو مزید شدت دی ہے
اس مرحلے میں جہاں عبدالسید کے حامی اور مخالفین ایک دوسرے سے بنیادی طور پر مختلف مؤقف اختیار کرتے ہیں، حامیوں کے نزدیک کسی مسلمان امیدوار کے نام، مذہب یا عرب شناخت کو ایسے سیاسی اشاروں کے ساتھ پیش کرنا جو دہشت گردی سے ذہنی تعلق پیدا کریں، واضح طور پر تعصب کی سیاست ہے،مخالفین کا جواب ہے کہ عبدالسید کے بعض سیاسی اتحادیوں اور بیانات پر سوال اٹھانا جائز سیاسی احتساب ہے اور ہر تنقید کو اسلاموفوبیا قرار دینا بھی درست نہیں
عبدالسید خود بھی اس فرق کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں،ان کی مہم نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہودیوں یا یہودیت کے خلاف تعصب نہیں سمجھنا چاہیے،اسی طرح وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلاموفوبیا، یہود دشمنی اور عرب مخالف تعصب کے خلاف ایک ہی اصول لاگو ہونا چاہیے،ان کی مہم نے یہودی ترقی پسند ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ’’جوز فار عبدل‘‘ کے نام سے ایک گروپ بھی قائم کیا(Abdul for Senate⁠)

عبدالسید کی کامیابی کے بعد یہ تنازع اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے،ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے لیے ان کا مسلمان اور ترقی پسند امیدوار ہونا ایک واضح سیاسی ہدف بن سکتا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ عبدالسید کے خلاف ہونے والی تنقید میں حقیقی پالیسی اختلاف اور مذہبی یا نسلی تعصب کے درمیان لکیر کیسے واضح کرتے ہیں
یہ انتخاب اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ عبدالسید کی تاریخی شناخت خود انتخابی سیاست کا ایک بڑا موضوع بن چکی ہے،ڈیئر بورن کے میئر عبداللہ حمود نے خبردار کیا ہے کہ ریپبلکن مہم میں اسلاموفوبیا کا عنصر نمایاں ہو سکتا ہے، تاہم ان کے نزدیک جواب مذہبی شناخت کی سیاست نہیں بلکہ مختلف کمیونٹیز کو معاشی اور شہری مسائل کے گرد متحد کرنا ہونا چاہیے
عبدالسید کے سامنے اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا وہ اپنی مسلمان اور عرب شناخت کو دفاعی سیاسی مسئلہ بننے سے روک کر اسے ایک وسیع تر انتخابی اتحاد میں تبدیل کر سکتے ہیں؟اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو مشی گن کی یہ دوڑ صرف ایک سینیٹ نشست کا مقابلہ نہیں رہے گی بلکہ یہ بھی طے کرے گی کہ امریکی سیاست میں مسلمان امیدوار کے خلاف سخت سیاسی حملوں کی حد کہاں تک جا سکتی ہے، اور ووٹر اسے سیاسی تنقید سمجھتے ہیں یا تعصب
مشی گن میں نومبر کی دوڑ اس لیے اہم ہے کہ عبدالسید کو صرف ریپبلکن امیدوار سے نہیں لڑنا،انہیں اس سیاسی بیانیے کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا جو ان کی پالیسیوں، شناخت اور سیاسی روابط کو ایک ہی تصویر میں سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہے، یہی فیصلہ کرے گا کہ یہ مہم پالیسی کی جنگ بنتی ہے یا شناخت اور خوف کی

قومی خبریں سے مزید