سابق صدر عارف علوی کی سرکاری رہائش گاہ کا تنازع، سندھ ہائیکورٹ نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کردیئے

سابق صدر عارف علوی کی سرکاری رہائش گاہ کا تنازع، سندھ ہائیکورٹ نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کردیئے

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کو سابق صدارت کے بعد سرکاری رہائش گاہ کی الاٹمنٹ سے متعلق تنازع پر دائر دو درخواستوں میں متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 31 اگست تک ملتوی کردی۔ 
دو رکنی آئینی بینچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کے وکلا اور متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوکر معاملے پر معاونت کرنے کی ہدایت کی۔
تنازع کراچی کے باتھ آئی لینڈ میں واقع بنگلہ نمبر 5-اے سے متعلق ہے۔ سابق صدر عارف علوی کا مؤقف ہے کہ صدارتی مدت مکمل ہونے کے بعد صدر کے پنشن قانون کے تحت انہیں مذکورہ سرکاری رہائش گاہ زندگی بھر کے لیے فراہم کی گئی تھی، تاہم وہ اب تک اس کا قبضہ حاصل نہیں کرسکے۔
عدالت کے مطابق مذکورہ رہائش گاہ اس وقت ڈاکٹر شہاب امام کے قبضے میں ہے۔ ان کی رہائش گاہ کی الاٹمنٹ اسٹیٹ آفس کی جانب سے منسوخ کیے جانے کے بعد انہوں نے 2023ء میں اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اور عبوری حکم حاصل کیا، جس کے باعث سابق صدر کو رہائش گاہ کا قبضہ نہیں مل سکا۔
دوسری جانب ڈاکٹر شہاب امام کا مؤقف ہے کہ انہیں قواعد کے تحت ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری رہائش گاہ برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی اور یہ منظوری متعلقہ حکام نے 2018ء میں دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ 2020ء میں پالیسی واپس لیے جانے سے ان کے پہلے سے حاصل شدہ حق کو متاثر نہیں کیا جاسکتا۔
سندھ ہائیکورٹ نے دونوں درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے اور ہدایت کی کہ وہ 31 اگست کو عدالت میں پیش ہوکر اس قانونی تنازع پر اپنا مؤقف واضح کریں

قومی خبریں سے مزید