ٹرمپ کے امریکہ میں ایک فیکٹری کا آخری دن، کام چین منتقل ہوتے ہی ایک شہر کی 40 سالہ زندگی ختم ہوگئی

ٹرمپ کے امریکہ میں ایک فیکٹری کا آخری دن، کام چین منتقل ہوتے ہی ایک شہر کی 40 سالہ زندگی ختم ہوگئی

ایسٹ لیک، اوہائیو ،40 برس تک جو کلائما ہر ہفتے 6 دن صبح طلوع ہونے سے پہلے اپنے گھر سے نکلتا اور تقریباً ایک میل دور اسی فیکٹری پہنچتا رہا، اس کے لیے کام محض روزگار نہیں تھا،یہ اس کی زندگی کا معمول، اس کی شناخت اور اس شہر کی صنعتی معیشت کا حصہ تھا
اس فیکٹری میں دنیا کے بہترین پیتل کے ساز تیار ہوتے تھے، جن میں ٹوبا، فرانسیسی ہارن اور سوزافون شامل تھے،مگر اب اس کی بھٹیاں خاموش ہو رہی ہیں اور پیداوار چین منتقل کی جا رہی ہے
کلائما نے 7 امریکی صدور کے ادوار دیکھے، 4 معاشی کساد بازیاں گزرتی دیکھیں اور مشرق وسطیٰ میں کئی امریکی جنگوں کے دوران بھی اسی فیکٹری میں کام جاری رکھا،اس دوران فیکٹری کی افرادی قوت نصف رہ گئی، اجرتیں کم ہوئیں اور چین نے سستی مصنوعات کے ذریعے عالمی منڈی پر اپنا اثر بڑھا لیا،امریکی سیاست دان آتے رہے، صنعتی ملازمتیں واپس لانے کے وعدے کرتے رہے، مگر زوال کا سلسلہ جاری رہا
کلائما پھر بھی کام پر جاتا رہا
اس کا کام آسان نہیں تھا،بھاری پیتل کے سازوں کو انتہائی تیز رفتار صنعتی خراد پر چمکانا جسمانی مشقت کا ایسا عمل تھا جس میں معمولی غلطی بھی خطرناک ہو سکتی تھی،لیکن طویل عرصے تک یہ محنت ایک ایسے صنعتی نظام کا حصہ تھی جس میں ایک امریکی کارکن اپنی پوری زندگی ایک ہی فیکٹری میں گزار سکتا تھا اور اسے یقین ہوتا تھا کہ اس کی محنت سے اس کے خاندان کا مستقبل محفوظ رہے گا
اب وہ یقین ٹوٹ رہا ہے
اوہائیو کے اس علاقے میں فیکٹری کی بندش محض چند سو ملازمتوں کا خاتمہ نہیں،یہ اس صنعتی ثقافت کے خاتمے کی علامت ہے جس نے کئی نسلوں تک امریکی شہروں کو معاشی اور سماجی زندگی فراہم کی،فیکٹری کے ساتھ مقامی کاروبار، خاندانوں کی آمدنی اور ایک پوری کمیونٹی کا روزمرہ نظام بھی جڑا ہوا تھا
یہ صورتحال خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ یہی وہ خطہ ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صنعت کو دوبارہ زندہ کرنے، چین سے مقابلہ کرنے اور مینوفیکچرنگ کی ملازمتیں واپس لانے کے وعدوں کے ذریعے سیاسی حمایت حاصل کی،صنعتی زوال سے ناراض ووٹروں کے لیے چین صرف ایک تجارتی حریف نہیں بلکہ ان کی کھوئی ہوئی معاشی زندگی کی علامت بن چکا ہے
لیکن سیاسی وعدوں اور صنعتی حقیقت کے درمیان فاصلہ اب بھی موجود ہے،امریکی کمپنیوں کے لیے چین میں کم لاگت پر پیداوار اور عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا طویل عرصے سے ایک طاقتور معاشی محرک رہا ہے،ٹیرف، تجارتی پابندیاں اور مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے باوجود ہر فیکٹری کو واپس امریکہ لانا آسان نہیں
ایسٹ لیک کی فیکٹری کی کہانی اسی پیچیدہ حقیقت کو سامنے لاتی ہے۔ یہاں ایک امریکی کارکن نے 40 برس تک اپنا کام نہیں بدلا، لیکن وہ دنیا جس کے لیے وہ کام کرتا تھا مسلسل بدلتی رہی
اب آخری شفٹ آ چکی ہے
مشینیں رک رہی ہیں، پیداوار چین جا رہی ہے اور ایک ایسا صنعتی باب بند ہو رہا ہے جسے کئی امریکی سیاست دان دوبارہ کھولنے کا وعدہ کرتے رہے ہیں
جو کلائما کے لیے یہ صرف نوکری کا آخری دن نہیں،یہ اس امریکہ کے ایک حصے کا آخری دن ہے جہاں ایک فیکٹری، ایک شہر اور ایک خاندان کی زندگی ایک ہی صنعتی نظام کے ساتھ نسلوں تک جڑی رہ سکتی تھی

قومی خبریں سے مزید