میر رضا علی کی لاش کی دوبارہ تدفین کے بجائے سندھ حکومت نے اصل طبی بورڈ بحال کردیا
کراچی: آئی بی اے کے فارغ التحصیل اور تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کے معاملے میں سندھ حکومت نے اچانک تبدیل کیے گئے طبی بورڈ کو ختم کرکے اصل آٹھ رکنی طبی بورڈ بحال کردیا ہے۔ اب میر رضا علی کی قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔
میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ ان کے والد میر حسین علی کی درخواست پر عدالت نے لاش کی قبر کشائی اور دوبارہ طبی معائنے کی اجازت دی تھی۔
ابتدائی طور پر سندھ محکمہ صحت نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کی سربراہی میں آٹھ رکنی طبی بورڈ تشکیل دیا تھا، تاہم جمعے کی صبح اچانک اسے تبدیل کرکے پانچ رکنی بورڈ بنا دیا گیا، جس میں حیدرآباد سے بھی ارکان شامل کیے گئے۔
میر رضا علی کے خاندان نے نئے بورڈ پر اعتراض کرتے ہوئے اس کے ذریعے قبر کشائی سے انکار کردیا۔ خاندان کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ اچانک بورڈ تبدیل کیے جانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی اور خاندان صرف اصل طبی بورڈ پر اعتماد کرتا ہے۔
خاندان کے اعتراض کے باعث جمعے کو ہونے والی قبر کشائی مؤخر کردی گئی۔ بعد ازاں سندھ کے محکمہ صحت کے سیکریٹری نے رات گئے اصل آٹھ رکنی طبی بورڈ بحال کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
پولیس سرجن نے اس کے بعد متعلقہ مجسٹریٹ اور طبی بورڈ کے ارکان کو خط لکھ کر اطلاع دی کہ میر رضا علی کی قبر کشائی آج صبح 11 بجے رحمانیہ مسجد سے ملحق قبرستان میں کی جائے گی۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا جب پولیس سرجن نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بعض ایسے مشاہدات موجود ہیں جو دستیاب تصاویر سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کے باعث رپورٹ پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پولیس نے تاہم خبردار کیا کہ ایسے بیانات جاری تحقیقات کو متاثر کرسکتے ہیں۔





