ٹیکنالوجی کی بڑے پیمانے پر برطرفیاں ایک کہیں زیادہ خوفناک حقیقت چھپا رہی ہیں، اور مصنوعی ذہانت اسے بے نقاب کر رہی ہے

ٹیکنالوجی کی بڑے پیمانے پر برطرفیاں ایک کہیں زیادہ خوفناک حقیقت چھپا رہی ہیں، اور مصنوعی ذہانت اسے بے نقاب کر رہی ہے

امریکی ٹیکنالوجی کی صنعت میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی کو اب تک زیادہ تر مصنوعی ذہانت کے انقلاب کا نتیجہ سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک زیادہ گہرا مسئلہ سامنے آ رہا ہے،مصنوعی ذہانت صرف انسانوں کی جگہ لینے کا عمل تیز نہیں کر رہی، بلکہ وہ یہ بھی ظاہر کر رہی ہے کہ کئی بڑی کمپنیوں میں برسوں سے کتنے ایسے کام، عہدے اور انتظامی پرتیں موجود تھیں جن کی افادیت واضح نہیں تھی
ٹیکنالوجی کمپنیوں نے گزشتہ دہائی میں غیر معمولی تیزی سے ملازمین کی تعداد بڑھائی،کم شرحِ سود، آسان سرمایہ کاری اور مسلسل بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی طلب نے کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ انجینئرز، منتظمین، مارکیٹنگ ماہرین اور معاون عملہ بھرتی کرنے کی ترغیب دی،اس دور میں زیادہ افرادی قوت کو اکثر ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا
پھر صورتحال بدل گئی
شرحِ سود میں اضافہ، سرمایہ کاری کے دباؤ اور کاروباری ترجیحات میں تبدیلی نے کمپنیوں کو اخراجات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا،بڑے پیمانے پر برطرفیاں شروع ہوئیں، مگر مصنوعی ذہانت نے اس عمل کو ایک نئی سمت دے دی
اے آئی ایسے کام انجام دے سکتی ہے جن کے لیے ماضی میں متعدد ملازمین درکار ہوتے تھے،کوڈ لکھنے، اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے، صارفین کے سوالات کے جواب دینے، مواد تیار کرنے اور بعض انتظامی کاموں میں خودکار نظام تیزی سے استعمال ہونے لگے ہیں
لیکن اس تبدیلی کا زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ کمپنیوں کو اب یہ سوال پوچھنا پڑ رہا ہے کہ ان کے پاس موجود ہر عہدہ واقعی کس قدر ضروری ہے
مصنوعی ذہانت نے کام کی پیداواری صلاحیت کو ناپنے کا ایک نیا پیمانہ فراہم کیا ہے،اگر ایک چھوٹی ٹیم وہی کام زیادہ تیزی سے کر سکتی ہے جس کے لیے پہلے ایک بڑا شعبہ درکار ہوتا تھا تو کمپنی کے لیے مسئلہ صرف ملازمین کی تعداد کم کرنا نہیں رہتا؛ اسے اپنے پورے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ثانی کرنا پڑتی ہے
یہی وجہ ہے کہ موجودہ برطرفیوں کو محض ’’اے آئی نے نوکریاں چھین لیں‘‘ کے عنوان سے سمجھنا شاید ناکافی ہے۔ ایک زیادہ پریشان کن امکان یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی صنعت میں کئی سال تک ملازمتوں کی تعداد کاروباری ضرورت سے زیادہ رفتار سے بڑھتی رہی
اس صورتحال کا اثر درمیانے درجے کے انتظامی عہدوں پر خاص طور پر نمایاں ہو سکتا ہے،وہ ملازمتیں جو مختلف ٹیموں کے درمیان رابطہ، نگرانی، رپورٹنگ یا معلومات کی منتقلی پر زیادہ منحصر تھیں، خودکار نظام کے آنے سے تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت ہر ملازمت ختم کر دے گی،بلکہ امکان یہ ہے کہ بہت سے پیشوں کی نوعیت تبدیل ہوگی،کچھ کام مشینیں انجام دیں گی، کچھ کام انسان اور مشین مل کر کریں گے، جبکہ ایسے افراد کی مانگ بڑھ سکتی ہے جو مصنوعی ذہانت کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے ساتھ پیچیدہ فیصلے، تخلیقی سوچ اور انسانی تعلقات بھی سنبھال سکیں
اصل خطرہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کی ملازمت کا زیادہ حصہ ایسے معمول کے کاموں پر مشتمل ہے جنہیں خودکار بنایا جا سکتا ہے
ٹیکنالوجی کی موجودہ برطرفیاں اسی لیے محض ایک صنعتی بحران نہیں بلکہ امریکی معیشت کے لیے ایک بڑے سوال کی علامت ہیں،اگر مصنوعی ذہانت کمپنیوں کو کم ملازمین کے ساتھ زیادہ کام کرنے کے قابل بناتی ہے تو مستقبل میں معاشی ترقی اور روزگار کے درمیان پرانا تعلق بھی تبدیل ہو سکتا ہے
مصنوعی ذہانت شاید ٹیکنالوجی کی صنعت سے ملازمتیں صرف چھین نہیں رہی؛ وہ کمپنیوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ پہلی مرتبہ سنجیدگی سے یہ پوچھیں کہ انہیں حقیقت میں کتنے لوگوں کی ضرورت ہے
اور شاید یہی موجودہ برطرفیوں کا سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو ہے

قومی خبریں سے مزید