محنت کش طبقے کی حقیقی آواز کون ہے؟ مائیک رو نے سوشلسٹ سیاست پر ڈیموکریٹس کو کھلا چیلنج دے دیا
امریکہ میں محنت کش طبقے کی نمائندگی کا دعویٰ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے، اور اس بار یہ سوال اٹھانے والوں میں ٹیلی وژن شخصیت مائیک رو بھی شامل ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ہنرمند اور ہاتھ سے کام کرنے والے امریکی کارکنوں کی اہمیت اجاگر کرتے رہے ہیں، جس کے باعث انہیں اس طبقے کے مسائل سے براہِ راست واقفیت رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔
مائیک رو کو خاص طور پر ڈسکوری چینل کے پروگرام ’’ڈرٹی جابز‘‘ نے شہرت دی، جس میں انہوں نے امریکہ بھر میں ایسے لوگوں کے کام کو نمایاں کیا جو مشکل، جسمانی اور اکثر نظرانداز کیے جانے والے پیشوں سے وابستہ ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے ایک فاؤنڈیشن بھی قائم کی جس کا مقصد ہنرمند پیشوں اور فنی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔
اب رو نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم فیس بک پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ان رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو سوشلزم کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشلزم کے بارے میں بعض ڈیموکریٹک رہنماؤں کی خاموشی تشویش ناک ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پارٹی کے اندر خود کو سوشلسٹ قرار دینے والے امیدوار اور گروہ زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔
رو کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں محنت کش طبقے کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں تو کیا ان کی پالیسیاں اور سیاسی زبان واقعی ان لوگوں کے مسائل کی عکاسی کرتی ہیں جو فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات، ورکشاپس، بجلی، پلمبنگ، نقل و حمل اور دیگر ہنرمند شعبوں میں کام کرتے ہیں؟
یہ بحث ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر وسیع تر نظریاتی کشمکش کی عکاس بھی ہے۔ ایک طرف پارٹی کے ترقی پسند حلقے زیادہ سرکاری مداخلت، معاشی عدم مساوات میں کمی اور کارکنوں کے لیے مضبوط سماجی تحفظ کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اعتدال پسند ڈیموکریٹس کو خدشہ ہے کہ سوشلزم کی اصطلاح عام ووٹر، خصوصاً متوسط اور محنت کش طبقے کے ووٹرز میں سیاسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
رو کی تنقید کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ خود کو روایتی سیاسی کارکن کے طور پر پیش نہیں کرتے۔ ان کی شناخت امریکی محنت کشوں اور ہنرمند پیشوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے ان کا مؤقف اس بحث میں ایک مختلف زاویہ پیدا کرتا ہے کہ محنت کش طبقے کی حقیقی نمائندگی آخر کس سیاسی نظریے یا جماعت کے پاس ہے۔
یہ سوال آئندہ امریکی انتخابات میں بھی اہم ہو سکتا ہے۔ اگر ڈیموکریٹس محنت کش طبقے کے ووٹ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف معاشی پالیسیوں کا وعدہ نہیں کرنا ہوگا بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ان امریکیوں کی روزمرہ زندگی، کام، اجرت، ہنر اور معاشی تحفظ کو حقیقتاً سمجھتے ہیں۔
مائیک رو کی تنقید اسی بنیادی سیاسی خلا کی طرف اشارہ کرتی ہے: محنت کش طبقے کے نام پر سیاست کرنا آسان ہے، لیکن اس طبقے کی زبان، عزت اور معاشی حقیقت کو سمجھنا کہیں زیادہ مشکل






