برنی سینڈرز کے بعد ترقی پسند تحریک کی قیادت کی جنگ تیز، اوکاسیو کارٹیز اور رو کھنہ آمنے سامنے
امریکی سیاست میں برنی سینڈرز کے بعد ترقی پسند تحریک کی قیادت کون سنبھالے گا، اس سوال نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر نئی سیاسی کشمکش پیدا کر دی ہے۔ مشی گن کی اہم سینیٹ پرائمری سے پہلے ترقی پسند حلقوں میں اس بات پر بحث تیز ہو رہی ہے کہ سینڈرز کے سیاسی ورثے کو آگے بڑھانے کی سب سے مضبوط صلاحیت کس رہنما کے پاس ہے۔
اس دوڑ میں نیویارک کی رکنِ ایوانِ نمائندگان الیگزینڈریا اوکاسیو کارٹیز اور کیلیفورنیا کے رکنِ ایوانِ نمائندگان رو کھنہ نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں۔ دونوں خود کو ترقی پسند سیاست کے اہم چہروں کے طور پر پیش کر رہے ہیں، لیکن آئندہ وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے ان کی حکمت عملی ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہے۔
رو کھنہ نے ملک بھر میں انتخابی سرگرمیوں، امیدواروں کی حمایت اور مختلف حلقوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ صرف کیلیفورنیا کے نمائندے نہ رہیں بلکہ قومی سطح پر ترقی پسند تحریک کے لیے ایک وسیع سیاسی نیٹ ورک قائم کریں۔
اوکاسیو کارٹیز نے اس کے برعکس زیادہ منتخب انداز اختیار کیا ہے۔ وہ ہر انتخابی مقابلے میں سرگرم ہونے کے بجائے ان اہم دوڑوں پر توجہ دے رہی ہیں جہاں ان کی موجودگی ترقی پسند امیدواروں یا تحریک کے لیے زیادہ سیاسی اثر پیدا کر سکتی ہے۔
مشی گن کی سینیٹ پرائمری اس مقابلے کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسے ڈیموکریٹک پارٹی کی سمت متعین کرنے والی اہم انتخابی دوڑوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس انتخاب میں ترقی پسند امیدواروں اور ان کے حامیوں کی کامیابی یا ناکامی یہ اشارہ دے سکتی ہے کہ پارٹی کے اندر بائیں بازو کی سیاست کس سمت بڑھ رہی ہے۔
سینڈرز کے قریبی حلقے اگرچہ ان کے سیاسی جانشین کے بارے میں ایک واضح رائے رکھتے ہیں، لیکن وسیع تر ترقی پسند تحریک میں ابھی کوئی اتفاقِ رائے نہیں۔ اصل مقابلہ صرف دو شخصیات کے درمیان نہیں بلکہ دو مختلف سیاسی انداز کے درمیان بھی ہے: ایک طرف ملک بھر میں مسلسل موجودگی اور تنظیم سازی کی حکمت عملی، اور دوسری طرف محدود مگر زیادہ اثرانداز سیاسی مداخلت۔
یہ اختلاف آئندہ برسوں میں مزید اہم ہو سکتا ہے۔ اگر اوکاسیو کارٹیز اور رو کھنہ اپنی سیاسی ساکھ، انتخابی روابط اور ترقی پسند ووٹرز کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو 2028 کی صدارتی دوڑ ان دونوں کے لیے فیصلہ کن مرحلہ بن سکتی ہے۔
برنی سینڈرز نے امریکی ترقی پسند سیاست کو کئی دہائیوں تک ایک واضح شناخت دی۔ اب ان کی سیاسی نسل کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ کون اس تحریک کو صرف زندہ نہیں رکھے گا بلکہ اسے قومی سطح پر نئی سمت بھی دے گا۔ مشی گن سے شروع ہونے والی یہ کشمکش ممکنہ طور پر اس سوال کا پہلا بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے





