حکومت پر سیاسی دباؤ میں تیزی، جماعتِ اسلامی نے 9 اگست کو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس لاہور مارچ اور ملک گیر دھرنوں کا اعلان، پی ٹی آئی بھی 27 ستمبر کی تحریک کی تیاری میں

حکومت پر سیاسی دباؤ میں تیزی، جماعتِ اسلامی نے 9 اگست کو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس لاہور مارچ اور ملک گیر دھرنوں کا اعلان، پی ٹی آئی بھی 27 ستمبر کی تحریک کی تیاری میں

اسلام آباد: وفاقی حکومت کے لیے سیاسی محاذ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف جماعتِ اسلامی نے مہنگائی، بجلی کے نرخوں اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے 9 اگست کو لاہور میں وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں گورنر ہاؤسز کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے۔ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف پہلے ہی 27 ستمبر سے ملک گیر تحریک اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے، جس سے آئندہ ہفتوں میں سیاسی درجۂ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو اس کا کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اب تک پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 8 ہزار ارب روپے وصول کر چکی ہے، مگر اس کے باوجود مہنگائی میں کمی کے بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 9 اگست کو لاہور میں وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کیا جائے گا، جبکہ دیگر صوبوں میں گورنر ہاؤسز کے سامنے احتجاج اور دھرنے دیے جائیں گے۔ جماعتِ اسلامی کی قیادت کے مطابق یہ تحریک صرف ایک روز کے احتجاج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ملک بھر میں عوامی دباؤ بڑھانے کے لیے مسلسل احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کو اس وقت بیک وقت دو بڑے سیاسی محاذوں کا سامنا ہے۔ ایک جانب جماعتِ اسلامی عوامی مسائل کو بنیاد بنا کر سڑکوں پر آنے کی حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف نے 27 ستمبر سے ملک گیر تحریک اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاری شروع کر رکھی ہے۔ اگر دونوں جماعتوں کی احتجاجی سرگرمیاں اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھتی ہیں تو آنے والے ہفتوں میں حکومت کے لیے سیاسی اور انتظامی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کے ماحول میں مسلسل احتجاجی تحریکیں حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان ثابت ہو سکتی ہیں، اور آنے والے دن ملکی سیاست کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے

قومی خبریں سے مزید