بشنوئی گینگ نے کینیڈا کے اسٹڈی ویزا پروگرام کو مجرمانہ نیٹ ورک بڑھانے کے لیے استعمال کیا

بشنوئی گینگ نے کینیڈا کے اسٹڈی ویزا پروگرام کو مجرمانہ نیٹ ورک بڑھانے کے لیے استعمال کیا

اوٹاوا: کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) کی ایک خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کے بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ نے کینیڈا کے اسٹڈی ویزا اور ورک پرمٹ پروگرام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں اپنے مجرمانہ نیٹ ورک کو وسعت دی۔ رپورٹ کے مطابق گینگ نے بھارت سے آنے والے بعض نوجوانوں کو بھرتی کر کے بھتہ خوری، فائرنگ، قتل اور دیگر منظم جرائم میں استعمال کیا۔
رپورٹ، جس کا عنوان “The Bishnoi Gang: An Emerging Threat in Canada” ہے، دسمبر 2025 میں امیگریشن اور سرحدی حکام کی رہنمائی کے لیے تیار کی گئی تھی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ گینگ کے اہم رکن گولڈی برار 2017 میں اسٹڈی پرمٹ پر کینیڈا پہنچا، تاہم حکام کے مطابق یہ واضح نہیں کہ اس نے کبھی تعلیمی ادارے میں باقاعدہ تعلیم حاصل بھی کی یا نہیں۔ بعد ازاں وہ گینگ کی سرگرمیوں کو شمالی امریکہ میں پھیلانے سے منسلک ہو گیا۔
خفیہ رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2023 کے درمیان تقریباً 4,000 بھارتی طلبہ، جو اسٹڈی پرمٹ پر کینیڈا آئے تھے، ان پر مجموعی طور پر 17,929 فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں سے 4,920 مقدمات سنگین یا منظم جرائم سے متعلق تھے، جبکہ ان سنگین جرائم میں تقریباً 97 فیصد پرتشدد نوعیت کے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ 2016 سے 2024 کے درمیان بھارتی اسٹڈی پرمٹ ہولڈرز کے خلاف جرائم کے مقدمات میں تقریباً 8,800 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہا گیا کہ تمام بھارتی طلبہ جرائم میں ملوث ہیں، بلکہ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ منظم جرائم پیشہ عناصر نے امیگریشن پروگراموں کا غلط استعمال کرتے ہوئے بعض افراد کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔ اسی بنیاد پر حکام نے امیگریشن نظام کی نگرانی مزید مؤثر بنانے اور منظم جرائم کے خلاف کارروائیاں سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید