غیر ملکی میڈیا کے نئے قواعد پر صحافتی تنظیموں کا شدید ردِعمل، حکومت سے نظرثانی کا مطالبہ
اسلام آباد: پاکستان کی صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی میڈیا تنظیموں نے ملک میں کام کرنے والے غیر ملکی میڈیا نمائندوں کے لیے حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے قواعد و ضوابط پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صحافت کی آزادی، معلومات کے آزادانہ بہاؤ اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش ہیں۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے مشترکہ مؤقف اختیار کیا کہ نئے ضوابط ریاستی نگرانی کو مزید سخت کرتے ہیں اور غیر ملکی صحافیوں کی نقل و حرکت، رپورٹنگ اور معلومات تک رسائی پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرتے ہیں، جو آزاد صحافت کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی نئے قواعد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان ہدایات سے انتہائی فکر مند ہے، جبکہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے انہیں پاکستان میں آزادیٔ صحافت کے لیے “ایک اور افسوسناک دھچکا” قرار دیا۔
صحافتی تنظیموں کے مطابق نئے قواعد کے تحت غیر ملکی صحافیوں کو ملک کے مختلف علاقوں کے دوروں، رپورٹنگ اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے پیشگی اجازت اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دینے جیسی شرائط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے آزادانہ رپورٹنگ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پی ایف یو جے نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے صحافتی تنظیموں کے تحفظات دور نہ کیے اور متنازع قواعد پر نظرثانی نہ کی تو ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ نئے قواعد کا مقصد غیر ملکی میڈیا نمائندوں کے لیے ایک واضح اور منظم طریقۂ کار وضع کرنا، قومی سلامتی کے تقاضوں کو یقینی بنانا اور حساس علاقوں میں رپورٹنگ کے حوالے سے انتظامی امور کو بہتر بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان ضوابط کا مقصد صحافتی آزادی سلب کرنا نہیں بلکہ ملکی قوانین اور سکیورٹی تقاضوں کے مطابق رپورٹنگ کو منظم بنانا ہے۔
صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد ایسے قواعد وضع کرے جو قومی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار، آزادیٔ صحافت اور عوام کے حقِ معلومات کا بھی مکمل تحفظ یقینی بنائیں





