سنی دیول کے بیان پر ردعمل،
پاکستان کو ’ماسی‘ کہنے والے دھرمندر کے الفاظ پر سوشل میڈیا بحث
بھارتی اداکار سنی دیول کو اپنے والد اور معروف اداکار آنجہانی دھرمندر کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دینے پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سنی دیول نے ایک تقریب میں پاکستان کے بارے میں دھرمندر کے الفاظ دہرائے تھے، جس پر مختلف حلقوں نے ردعمل ظاہر کیا۔
سنی دیول اپنی آنے والی فلم “بٹوارہ 1947” کی تشہیری تقریب کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے والد دھرمندر کے اس بیان کا ذکر کیا جس میں انہوں نے پاکستان کو جذباتی انداز میں اپنی “ماسی” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ دونوں ممالک کبھی ایک ہی خطے کا حصہ تھے۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے سنی دیول کے الفاظ کو تاریخی تقسیم اور موجودہ پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں حساس قرار دیا، جبکہ بعض لوگوں نے اسے تقسیمِ ہند سے جڑی جذباتی یادوں اور ثقافتی رشتوں کا اظہار قرار دیا۔
سنی دیول نے سیاسی بحث میں جانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اداکاروں کا کام تفریح فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اپنے والد کے جذباتی تعلق اور ماضی کے بیان کا حوالہ دیا، نہ کہ کسی سیاسی مؤقف کا اظہار کیا۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سنی دیول کی فلم “بٹوارہ 1947” تقسیمِ ہند کے پس منظر پر بنائی گئی ہے اور اس کی تشہیر کے دوران پاکستان اور تقسیم سے متعلق سوالات بھی زیرِ بحث آ رہے ہیں۔





