مودی کی فیس بک ویڈیو ہٹانے پر میٹا کو معافی مانگنا پڑی، بھارت میں آزادیٔ اظہار اور سوشل میڈیا طاقت پر نئی بحث
سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی فیس بک ویڈیو مختصر وقت کے لیے ہٹانے کے معاملے پر معذرت کرتے ہوئے اسے ایک تکنیکی غلطی قرار دیا ہے، تاہم اس واقعے نے بھارت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پالیسیوں، سیاسی مواد کی نگرانی اور آزادیٔ اظہار کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
میٹا کے چیف گلوبل افیئرز افسر جوئل کپلن نے کہا کہ مودی کی ویڈیو کو محدود کرنا ایک غلطی تھی اور کمپنی نے اس معاملے کو درست کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلیٹ فارم پر مواد کی نگرانی کے دوران بعض اوقات انسانی یا نظامی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت زیادہ اہم بن گیا جب بھارتی پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے میٹا سے وضاحت طلب کی اور کمپنی کے سربراہ مارک زکربرگ سے تین دن کے اندر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
بھارتی حکام کا مؤقف تھا کہ ملک کے منتخب وزیر اعظم کی ویڈیو کو ہٹانا ایک سنگین معاملہ ہے، کیونکہ سوشل میڈیا اب حکومتی ابلاغ اور عوام تک براہ راست رسائی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔
میٹا کے لیے بھارت دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا مارکیٹوں میں سے ایک ہے، جہاں کروڑوں صارفین فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے بھارتی حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعلقات ہمیشہ اہم سیاسی اور تجارتی بحث کا موضوع رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے مواد کی نگرانی کے نظام میں شفافیت بڑھائیں تاکہ سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور عام صارفین کے مواد کے ساتھ غیر منصفانہ کارروائی نہ ہو۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں پوسٹس کی نگرانی کرنے والے خودکار نظاموں میں غلط فیصلے ہونا ایک عالمی مسئلہ ہے اور ایسے واقعات صرف ایک ملک تک محدود نہیں۔
مودی کی ویڈیو کا معاملہ ایک بار پھر یہ سوال سامنے لایا ہے کہ دنیا بھر میں طاقتور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سیاسی مواد، حکومتی دباؤ اور آزادیٔ اظہار کے درمیان توازن کیسے قائم کریں گے





