بی جے پی کا نیا سیاسی امتحان، حد بندی بل کے لیے اتحادیوں سے باہر حمایت درکار مگر ایف سی آر اے ترمیم رکاوٹ بن گئی

بی جے پی کا نیا سیاسی امتحان، حد بندی بل کے لیے اتحادیوں سے باہر حمایت درکار مگر ایف سی آر اے ترمیم رکاوٹ بن گئی

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو پارلیمنٹ میں ایک پیچیدہ سیاسی صورتحال کا سامنا ہے، جہاں ایک اہم انتخابی حد بندی بل کے لیے اسے ایسے سیاسی گروپوں کی حمایت درکار ہو سکتی ہے جو غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق مجوزہ قانون سازی کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حکومت کے لیے حد بندی سے متعلق آئینی ترمیم یا قانون سازی منظور کرانے کے لیے صرف قومی جمہوری اتحاد کے اتحادیوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا، بلکہ اسے بعض دیگر علاقائی اور اپوزیشن جماعتوں کی حمایت بھی درکار پڑ سکتی ہے۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان ممکنہ حامی جماعتوں میں سے کئی غیر ملکی چندہ ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) میں مجوزہ ترامیم کی شدید مخالف ہیں۔ ان جماعتوں اور سماجی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ایسی ترامیم سے غیر سرکاری اداروں اور سیاسی طور پر سرگرم تنظیموں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی کے لیے یہ صورتحال ایک “سیاسی مخمصہ” بن گئی ہے۔ ایک طرف وہ حد بندی کے معاملے کو اپنے بڑے سیاسی ایجنڈے کا حصہ سمجھتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایف سی آر اے میں تبدیلی کے معاملے پر ممکنہ حمایتی جماعتیں ناراض ہو سکتی ہیں۔

حد بندی کا معاملہ بھارت میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کا تعلق مستقبل میں لوک سبھا کی نشستوں کی نئی تقسیم سے ہے۔ جنوبی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ آبادی کی بنیاد پر نئی حد بندی سے ان کی سیاسی نمائندگی کم ہو سکتی ہے، جبکہ شمالی ریاستوں میں نشستوں میں اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

بی جے پی کے لیے یہ مسئلہ صرف پارلیمانی اعداد و شمار کا نہیں بلکہ وفاقی توازن اور ریاستی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومت کو ایک طرف اپنے حامی حلقوں کو مطمئن رکھنا ہے اور دوسری طرف ان جماعتوں کو ساتھ لانا ہے جن کی حمایت کے بغیر اہم قانون سازی مشکل ہو سکتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں بی جے پی کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایف سی آر اے جیسے متنازع معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھتی ہے یا حد بندی بل کی منظوری کے لیے سیاسی سمجھوتے کا راستہ اختیار کرتی ہے۔

یہ معاملہ بھارتی سیاست میں اس بڑے سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ کیا حکومت اپنے نظریاتی ایجنڈے اور پارلیمانی ضرورتوں کے درمیان توازن قائم کر پائے گی یا نہیں

قومی خبریں سے مزید